اسلام آباد پولیس کا صحافیوں پر حملے کرنے والوں کی تلاش میں ناکامی کا اعتراف
وفاقی دارالحکومت میں صحافیوں کو ہراساں کرنے کے خلاف از خود نوٹس کیس میں اسلام آباد کے سربراہ نے صحافیوں کے مقدمات کی تفتیشی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے۔ حیران کُن طور پر اس میں مطیع اللہ جان کے اغوا کے مقدمے کا ذکر نہیں کیا گیا۔
رپورٹ میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں 16 مقدمات درج کرائے گئے جبکہ اس وقت چار صحافیوں پر حملوں اور ہراساں کرنے کے مقدمات کی تفتیش جاری ہے۔
ابصار عالم پر قاتلانہ حملے اور اسد طور پر تشدد کرنے والے ملزمان کو تلاش کرنے میں دارالحکومت کی پولیس تاحال ناکام ہے اور عدالت کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے جبکہ سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کے مقدمے کا رپورٹ میں ذکر ہی نہیں کیا گیا۔

