ضروری نہیں عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال ہو: الیکشن کمیشن
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ اگلے عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے ہونے کے حوالے سے ابھی حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔
جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون انصاف کے اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں الیکشن کمیشن کے سیکریٹری عمر حمید خان نے کہا کہ ’الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال آئندہ عام انتخابات میں ہوگا یا نہیں، ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ای وی ایم کے استعمال میں چیلنجز درپیش ہو سکتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’قانون سازی کے باوجود آئندہ عام انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال سے پہلے 14 مراحل سے گزرنا ہوگا۔ جن میں خاص طور پر ای وی ایم کے استعمال سے متعلق مزید تین سے چار پائلٹ پراجیکٹ کرنا پڑیں گے۔‘
الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے بتایا کہ ’ایک پولنگ سٹیشن پر کتنی الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں ہوں گی، اس کا اندازہ لگانا اور پتا چلانا باقی ہے۔‘
اجلاس میں ارکان اسمبلی نے بجلی اور انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی صورت میں ای وی ایم کے ممکنہ استعمال، کسی بھی تکنیکی خرابی کی صورت میں ووٹنگ کے متبادل نظام اور ووٹنگ کے بعد اتنی بڑی تعداد میں مشینوں کو سنبھال کر رکھنے، مینٹینینس سے متعلق سوالات کیے۔
الیکشن کمیشن کے سیکریٹری نے بتایا کہ ’اس وقت الیکشن کمیشن میں ان تمام معاملات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فوری طور پر میں آپ کے سوالات کے جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوں۔‘
الیکشن کمیشن کے سیکریٹری عمر حمید خان نے بریفنگ میں کہا کہ قانون سازی کے تحت نئی مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کرنا ہوں گی۔ ’ای وی ایم کا بل تو پاس ہوگیا لیکن ہم اس کے مطابق انتخابات کرانے کے پابند نہیں ہیں، ان مشینوں کے استعمال میں ہمیں کافی وقت لگے گا۔‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’انڈیا کو اس پر 20 سال اور برازیل کو 22 سال کا عرصہ لگا تھا۔ ضروری نہیں بل پاس ہونے کے بعد ہم مشینوں کو فوری استعمال کریں۔‘
عمر حمید خان کے مطابق ’اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کے حوالے سے اقدامات کر رہے ہیں۔‘

