جنسی زیادتی کے مقدمات کے لیے پاکستان میں خصوصی عدالتیں
پاکستان میں جنسی زیادتی یا ریپ کے انسداد کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔
پاکستان کی پارلیمان سے بدھ کو منظور کیے گئے نئے قانون کے تحت نہ صرف ریپ کے ملزمان کا خصوصی عدالتوں کے ذریعے جلد ٹرائل ہو گا بلکہ نادرا ان ملزمان کی فہرست بھی مرتب کرے گا جسے عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے علاوہ وزیراعظم کے حکم پر عام بھی کیا جا سکے گا۔
انسدادِ جنسی زیادتی قانون کے مطابق ملک میں عورتوں اور بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم کے خاتمے کے لیے خصوصی سیل بھی بنائے جائیں گے جن کے ذریعے پولیس، طبی عملہ اور ضلعی انتظامیہ مل کر ریپ کے واقعات کی جلد تفتیش کریں گے اور فوری انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
چیف جسٹس کی مشاورت سے ملک بھر میں ریپ کے کیسز کے ٹرائل کے لیے خصوصی عدالتیں قائم کی جائئں گی اور ان میں تعینات ججوں کو سیشن جج کے اختیارات دیے جائیں گے۔
بعض کیسز میں ریپ کے شکار افراد کے تحفظ کے لیے صدر چیف جسٹس کی مشاورت سے ریپ کے کیسز ملک کی کسی بھی خصوصی عدالت میں بھیج سکیں گے چاہے وہ جرم کے وقوعے کے علاقے میں قائم نہ بھی ہو۔ زیادتی کے ملزمان کے سپیڈی ٹرائل اور جنسی زیادتی کے کیسز کے چار ماہ میں فوری اور ترجیحی بنیادوں پر فیصلوں کے لیے حکومت خصوصی عدالتوں کے لیے فنڈ بھی فراہم کرے گی۔

