منی لانڈرنگ کیس، چالان پیش نہ کرنے پر عدالت کا سوال
شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے خلاف شوگر ملز کاروبار کے ذریعے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں لاہور کی بینکنگ عدالت کے جج نے ایف آئی اے کی تفتیش میں سست روی پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔
سنیچر کو جج طاہر صابر نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے تفتیشی افسر سے چالان پیش کرنے میں ناکامی کی وجہ پوچھی۔
جج نے ایف آئی اے کے تفتیشی سے استفسار کیا کہ گزشتہ سماعت پر ہدایت جاری کی تھی، بتایا جائے چالان کیوں جمع نہیں کرایا؟
ایف ائی اے کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ شہباز شریف کے شریک ملزم نے عبوری ضمانت لے لی ہے ان سے تفتیش مکمل کرنی ہے۔
جج نے کہا کہ عدالت نے عبوری چالان کا حکم دیا تھا۔ کتنے دن میں ایف آئی اے چالان جمع کرائے گا، دن بتائیں ۔
ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ انوسٹی گیشن مکمل ہوتے ہی چالان جمع کرا دیں گے۔
جج طاہر صابر نے کہا کہ ایف آئی اے حتمی تاریخ بتائے ورنہ ایف آئی اے کے متعلقہ افسران کو شوکاز نوٹس جاری کریں گے۔
ایف آئی اے نے چالان جمع کرانے کے لیے عدالت سے تین ہفتے کا وقت مانگا جس پر جج بینکنگ جرائم کورٹ نے ہدایت کی کہ عبوری ضمانت لینے والے ملزمان آج ہی ایف آئی اے کی تفتیش میں شامل ہوں۔

