پاکستان

عدلیہ نے غلطیاں کیں، تسلیم کرنے سے انکار نہیں: چیف جسٹس

نومبر 20, 2021

عدلیہ نے غلطیاں کیں، تسلیم کرنے سے انکار نہیں: چیف جسٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیا ہے کہ ’عدلیہ ریاست کے ایک ستون کے طور پر اپنی غلطیاں تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتی۔ ہم نے اس ملک کی تاریخ کا رخ بدلا ہے۔‘

سنیچر کو لاہور میں انسانی حقوق کی ممتاز وکیل عاصمہ جہانگیر کی یاد میں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’ملک کی عدالتی تاریخ میں سندھ ہائیکورٹ نے پہلا لینڈ مارک فیصلہ سنایا تھا، جس پر فخر ہونا چاہیے۔ اگر وہ فیصلہ سپریم کورٹ کے جسٹس منیر نے نہ بدلا ہوتا، تو اس ملک کا مستقبل بہت مختلف ہوتا۔‘

ان کے مطابق پاکستان بننے کے بعد عدلیہ کا پہلا امتحان تمیز الدین کیس تھا. ’یہ وہ موقع تھا جب جمہوریت کو پٹڑی سے اتارا گیا اور جمہوریت کو تباہ کیا گیا۔‘

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ’پھر اس کے بعد ڈوسو کیس تھا، دوسرا کیس محترمہ نصرت بھٹو کیس، پھر ظفر علی شاہ کیس، یہ تمام فیصلے تاریخ کا حصہ ہیں جنہیں ہم تاریخ سے مٹا نہیں سکتے۔ ان فیصلوں کے ذریعے غیر جمہوری عناصر کو اپنی طاقت کے استعمال کا موقع ملا۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے