نااہلی کیس، الیکشن کمیشن کی فیصل واوڈا کو آخری مہلت
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حکمران جماعت تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل واوڈا کو نااہلی کیس میں دلائل دینے کے لیے آخری مہلت دی ہے۔
جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں تین رکنی کمیشن نے فیصل واووڈا کی نااہلی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کی۔
فیصل واووڈا نے کمیشن کے سامنے پیش ہو کر بتایا کہ ان کے وکیل کے اہلخانہ بیمار ہیں، ممکن ہے وکیل کو اہلخانہ کے علاج کے لیے باہر جانا پڑے۔
فیصل واووڈا کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے احترام میں خود آیا ہوں، میری والدہ کا انتقال بھی اسی بیماری سے ہوا تھا۔
فیصل واووڈا نے کہا کہ خود آنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم کیس کو سنجیدہ لے رہے ہیں�.
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ وکیل کے آنے کی ضرورت نہیں، تحریری دلائل بھجوا دیتے۔
کمیشن نے فیصل واووڈا کے معاون وکیل کی سرزنش بھی کی۔
ممبرسندھ نثار درانی نے پوچھا کہ آپ کیس فائل لے کر آئے ہیں؟ معاون وکیل نے بتایا کہ کیس فائل سینئر وکیل کے پاس ہے.
ممبر سندھ نثار درانی نے کہا کہ آپ طے کرکے آئے ہیں کہ کیس چلنے نہیں دینا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کسی نے تحریری دلائل دینے ہیں تو جمع کروا دے۔ درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ جو دلائل ہو چکے انہی پر انحصار کرتے ہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے فیصل واووڈا سے کہا کہ فیصلہ محفوظ کر لیتے ہیں آپ تحریری دلائل جمع کروا دینا، دوسرا آپشن یہ ہے کہ آپ خود دلائل دیدیں تو فیصلہ کر لیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے پوچھا کہ تسلیم شدہ ہے کہ آپ دوہری شہریت کے حامل تھے۔ آپ نے شہریت چھوڑی ہے تو اس کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کریں۔
فیصل واووڈا نے بتایا کہ وہ پیدا ہی دوہری شہریت کے ساتھ ہوئے تھے۔
الیکشن کمیشن نے سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کی تو واوڈا نے کہا کہ میں پانچ جنوری کی تاریخ مانگ رہا تھا۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہائیکورٹ نے دو ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا، اب ہمیں مقدمات نمٹا کر اگلے الیکشن کی تیاری کرنی ہے، کیس کو مزید التواء کا شکار نہیں ہونے دیں گے۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آئندہ سماعت پر کوئی نہ آیا تو فیصلہ محفوظ کر لیں گے۔

