فواد چوہدری کے بعد اعظم سواتی نے بھی الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی
پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے بعد وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی نے بھی الیکشن کمیشن پر الزامات لگانے پر تحریری معافی مانگ لی ہے تاہم کمیشن نے اعظم سواتی کو ذاتی طور پر پیش ہو کر معافی مانگنے کا حکم دیا ہے۔
جمعے کو الیکشن کمیشن میں کیس کی سماعت کے دوران اعظم سواتی کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے تحریری معافی نامہ کمیشن کے سامنے پڑھ کر سنایا۔
اعظم سواتی کے خلاف کیس کی سماعت ممبر سندھ نثار احمد درانی اور ممبر بلوچستان شاہ محمد جتوئی پر مبنی دو رکنی کمیشن نے کی۔
معافی نامے میں اعظم سواتی نے لکھا ہے کہ انہوں نے کبھی الیکشن کمیشن کو سکینڈلائز کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ’وفاقی وزیر ہوں ہمیشہ اداروں کی مضبوطی کیلئے کام کیا‘
انہوں نے کہا کہ وہ الیکشن کمیشن کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں ’میرے کسی الفاظ سے الیکشن کمیشن کی دل آزاری ہوئی تو معافی مانگتا ہوں ۔
اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری بھی کمیشن سے معافی مانگ چکے ہیں۔
سماعت کے آغاز پر کمیشن نے پوچھا کہ اعظم سواتی کہاں ہیں۔ جس پر وکیل علی ظفر نے بتایا کہ وہ یہاں نہیں ہیں اس لئے میں پیش ہوا ہوں۔ انہوں نے اعظم سواتی کے آج پیش نہ ہونے کی استثنی کی درخواست دے دی۔
الیکشن کمیشن کے ممبر سندھ نے کہا کہ اعظم سواتی الیکشن کمیشن کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ گذشتہ سماعت پر وہ سینیٹ میں تھے مگر یہاں نہیں آئے۔ تمام اداروں کو ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہیے۔
’اعظم سواتی کے آج پیش نہ ہونے پر استثنی مسترد کرتے ہیں اعظم سواتی کو پیش ہوکر معافی مانگنی پڑے گی۔‘
ان کے وکیل کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی دو بار الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے۔ کمیشن نے اعظم سواتی کیس کی سماعت 22 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

