ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے امریکی آپشنز کیا؟
امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے لیے فوجی کمانڈر نے کہا ہے کہ ان کی افواج کے پاس ایران کو روکنے کے لیے ’بہت مضبوط فوجی آپشنز‘ موجود ہیں، جو اپنے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں کے ہتھیاروں کو بڑھا رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ ہفتوں میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے جب کہ تہران کے جوہری پروگرام کو روکنے کے لیے ویانا میں ہونے والے مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔
جنرل فرینک میکنزی نے فنانشل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میرے خیال میں ایران سنجیدگی سے ہماری طاقت کو کم تر سمجھتا ہے۔ اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ عراق اور شام میں حملے جاری رکھنے اور جانی نقصان پہنچانے کے قابل ہو جائیں گے، اور پھر بھی ہمارے ساتھ بغیر کسی اثر کے جوہری مذاکرات کرنے کریں گے۔’
برطانوی خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق اس معاملے سے واقف ایک شخص نے بتایا کہ امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان کو اکتوبر میں پینٹاگون کے رہنماؤں کی طرف سے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر سکے گا، بریفنگ دی گئی ہے۔
مغربی ممالک سفارت کاری کی سست رفتاری اور اس معاملے پر کسی بھی بات پر راضی نہ ہونے پر تہران سے مایوس ہو گئے ہیں۔
ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی کے انتخاب کے بعد مذاکرات مہینوں تک رکے رہے اور ایران نے امریکہ سے براہ راست مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے ثالثوں کے ذریعے بات چیت کی۔

