عقیدے کا استثنیٰ نہیں، امریکی فوج کا اعلیٰ افسر برطرف
امریکہ میں فوج کے ایک اعلیٰ افسر کو عالمی وبا کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگانے سے انکار پر ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
خبر ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی نیوی کے حکام نے بتایا کہ کورونا ویکسین لینا ضروری ہے جبکہ ایگزیکٹیو آفیسر کی جانب سے کورونا کا ٹیسٹ کرانے سے بھی انکار کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کمانڈر لوسیئن کنز یو ایس ایس ونسٹسن چرچل اے ڈسٹرائر پر سیکنڈ کمانڈ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ پہلے اہلکار ہیں جن کو ویکسین لگوانے سے انکار پر برطرف کیا گیا۔
امریکی نیوی کے ترجمان لیفٹیننٹ کمانڈر جیسن فشر نے اس بارے میں کوئی واضح وجہ اور تفصیل نہیں بتائی تاہم کہا کہ برطرف کیے گئے افسر کے ویکسین پر کچھ ذاتی تحفظات تھے۔
ترجمان جیسن فشر کا کہنا تھا کہ افسر کو برطرف کیے جانے کی وجہ ایک قانون کی تعمیل نہ کرنا ہے کیونکہ اس طرح مستقبل میں ان کی کارکردگی اور صلاحیت پر اعتماد مشکوک ہو گیا تھا۔
فوجی حکام کے مطابق برطرفی کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہوں نے نہ صرف ویکسین لگوانے سے انکار کیا وائرس کا شکار ہیں یا نہیں، اس کا ٹیسٹ کروانے کا کہا گیا تو اس پر بھی انکار کیا۔
ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کنز کی جانب سے عقیدے کی بنا پر استثنیٰ کی درخواست دی گئی تھی جس کو مسترد کیا گیا جس کے خلاف کنز اپیل کریں گے۔
پینٹاگون نے تمام سروس ممبران کے لیے ویکسین کو لازمی قرار دیا ہے اور بحریہ کے اہلکار کے پاس نومبر کے آخر تک اپنے شاٹس لینے یا استثنیٰ کی درخواست دینے کا وقت تھا۔
ہزاروں کی تعداد میں اہلکاروں کی جانب سے عقیدے کی بنیاد پر استثنیٰ کے لیے کہا گیا ہے تاہم ان میں سے کسی ایک کو بھی منظور نہیں کیا گیا۔

