کالم

منٹو کے منگو کو خبر ہو کہ اسلام آباد بدل رہا ہے!

جنوری 25, 2022

منٹو کے منگو کو خبر ہو کہ اسلام آباد بدل رہا ہے!

نورالامین دانش

ایک دفعہ کا ذکر سے بات دوسری بار کے ذکر تک کچھ یوں پہنچی ہے کہ منٹو کے نئے پاکستان میں اب پولیس کے حالات بدلنا شروع ہو چکے ہیں اور آخری اطلاعات تک منگو اب شہر میں سینہ تان کے پھرتا ہے کہ نیا قانون محض افسانہ ہی نہیں تھا، آ بھی گیا ہے اور اب میں اور امیر سب برابر ہوں گے۔

بندہ ناچیز گزشتہ پانچ سال اسلام آباد کی کرائم رپورٹنگ سے وابستہ رہا، کبھی پولیس کو سائیکلوں پر بٹھا کر تو کبھی پہلے سلام پھر کلام کے نعرے لگاتے دیکھا لیکن کیونکہ یہ سب کچھ کمپنی کی مشہوری کے لیے تھا لہذا ادھر سوشل میڈیا پر معاملات اٹھائے ادھر شام تک رینٹ کے کیٹرنگ والوں کی طرح شام کو سب کچھ جمع کر کے واپس بھجوا دیئے جاتے تھے۔

چند ہفتے قبل اسلام آباد میں پولیس کی نئی قیادت نے کنٹرول سنبھالا ، میں نے چونکہ ہمیشہ پولیس کے نعرے ہی سنے تھے لہذا اتنا سیریس نہیں لیا، لیکن دیکھتے ہی دیکھتے شہر میں مافیا کی چیخیں سنائی دینے لگیں۔ ہر طرف شور دیکھا ، ہمیشہ کی طرح بلیک میلنگ کے ہتھکنڈے اپنائےگئے لیکن اس بار پولیس نے سرینڈر کرنے سے انکار کر دیا۔

روزانہ کی بنیاد پر کھلی کچہریاں لگنا شروع ہو گئیں ، وہ ایس ایچ اوز جنہیں گوگل بھی ڈھونڈتے ہوئے وقت لگاتا تھا ان کا کنیکشن ایسا ٹھیک ہوا کہ اب وہ تھانے کو چھوڑتے ہی نہیں۔

اسلام آباد پولیس جسے رول ماڈل ہونا چاہیے تھا وہ بدقسمتی سے تعلقات بنانے کے چکر میں پاکستان بھر کی پولیس سے کم از کم بیس سال پیچھے رہ گئی۔

یقین مانیں پہلی بار اسلام آباد پولیس کے جوانوں اور افسران کا اتنا بلند مورال دیکھ رہا ہوں۔

عصمت اللہ جونیجو کے جانے کے بعد ٹریفک پولیس میں بھی پہلی بار کوئی تیس مار خان ہو یا چالیس مار قانون کی نظر میں سب کے لیے برابری دیکھ کر حیرت کے ساتھ خوشی بھی ہو رہی ہے ، اب کوئی بھی آئے گا لائسنس بنوانے کے لیے تو اس کو قانون پر ہر صورت عمل کرنا پڑے گا۔

انصاف اور قانون کی برابری کے نعروں پر اقتدار میں آنے والی حکومت اگر احسن یونس جیسے چار آئی جیز ڈھونڈ کر چاروں صوبوں کی پولیس ان کے حوالے کر دے تو یقین مانیں یہ پولیس ریفارمز کی جانب پہلا قدم ثابت ہو گا.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے