سندھ ہاؤس پر حملہ، وفاق کی اکائی کو نشانہ بنایا گیا: سپریم کورٹ
جہانزیب عباسی، صحافی. اسلام آباد
پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ سیاسی عمل کا پرامن ہونا نہایت اہم ہے۔ ’احتجاج حق ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ پبلک پراپرٹی یا قومی اداروں کو خطرے میں ڈالا جائے، خواہ کوئی بھی کرے یہ آئین و قانون کے خلاف ہے۔‘
سنیچر کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں گی۔ آئین کے آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی آئینی عمل ہے۔ امن وامان برقرار رکھنے کے لیے لائی گئی اس درخواست کا کسی سیاسی عمل سے تعلق نہیں۔
چیف جسٹس عمر عطا کا کہنا تھا کہ عدالت کا پارلیمنٹ اور پارلیمنٹیرینز کے لیے بہت احترام ہے۔
سندھ ہاؤس پر دھاوے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ ’قانون توڑا گیا اور وفاق کی ایک اکائی نشانہ بنی، نقصان پہنچایا گیا۔ ہم نے یہ سب ٹی وی پر دیکھا، اسلام آباد پولیس کے سربراہ رپورٹ دیں کہ کیا ہوا۔‘
سماعت کے دوران تشدد کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ عدالت کو اس واقعے کا پس منظر بتانا چاہیں گے کہ تحریک انصاف کے بعض اراکین کو سندھ ہاؤس میں رکھا گیا تھا جس کی پہلے پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے ایک پریس کانفرنس میں تردید کی تھی، یہ معاملہ ہارس ٹریڈنگ کے ایک پرانے مرض کی نشاندہی ہے، یہ ایک الزام ہے اور اس کے بعد ہی سیاسی صورتحال میں گرمی پیدا ہوئی، تشدد کی کسی صورت بھی گنجائش نہیں۔
عدالت نے اپنے آرڈر میں لکھا کہ ’گزشتہ شام اسلام آباد کے ریڈ زون میں واقع سندھ ہاؤس میں ناخوشگوار واقعات پیش آئے۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ گیٹ توڑنے پر مقدمے کا اندراج کیا گیا۔ 13 افراد کو گرفتار کیا گیا جن کو بعد ازاں ضمانت پر رہا کیا گیا۔‘
عدالتی حکم نامے کے مطابق اٹارنی جنرل نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور یقین دہائی کرائی کہ حکومت امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے تمام اقدامات کرے گی۔ عدالت کے مطابق ’جہاں تک آرٹیکل 95 کے تحت سیاسی عمل کا تعلق ہے اس وقت عدالت اس کو نہیں دیکھ رہی۔ اس پر قانون کے مطابق عمل کیا جائے۔ فی الوقت عدالت کی توجہ گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے پر ہے عوامی مفاد میں اس کو دیکھ رہے ہیں۔‘
عدالت نے حکم نامے میں لکھا کہ اسلام آباد پولیس کے سربراہ سندھ ہاؤس میں پیش آنے والے واقعے پر رپورٹ دیں گے اور بتائیں گے کہ کیا یہ قابل ضمانت جرم تھا۔
عدالتی حکم کے مطابق ’اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے تاحال ایسا کچھ نہیں کیا تاہم یہ توقع کی جاتی ہے کہ کوئی بھی غیر قانونی عمل نہیں کیا جائے گا۔ عدالت کے سامنے فی الوقت کوئی بھی سیاسی جماعت موجود نہیں۔ تحریک عدم اعتماد میں فریق تمام سیاسی جماعتوں کا مؤقف سنا جائے گا۔ اس کے لیے تمام پارلیمانی جماعتوں کو نوٹس بھیجا جاتا ہے۔‘

