حمزہ شہباز سے حلف، لاہور ہائیکورٹ میں کیا ہوا؟
لاہور ہائیکورٹ نے نو منتخب وزیراعلیٰ حمزہ شہباز سے حلف نہ لینے کے خلاف درخواست پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ گورنر پنجاب سے مؤقف معلوم کر کے عدالت کو آگاہ کریں۔
جمعرات کو لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس امیر بھٹی نے حمزہ شہباز کی درخواست پر سماعت کی۔
حمزہ شہباز کے وکیل خالد اسحاق نے بتایا کہ اس عدالت کی توجہ آئین کی خلاف ورزی کی طرف کرانا چاہتا ہوں، گورنر پنجاب اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے۔
وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ قانون کے مطابق وزیراعلی کے انتخاب کا سارا عمل مکمل ہوا۔
حمزہ شہباز کے وکیل نے بتایا کہ ڈپٹی سپیکر نے وزیراعلی کے انتخاب سے متعلق نتائج گورنر پنجاب کو بھجوائے۔ قانون میں وزیر اعلی کے عہدے کے انتخاب کے لیے کسی کی رائے کی ضرورت نہیں۔
ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست پر ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب پیش ہو کر عدالت کی معاونت کریں۔ ایڈوکیٹ جنرل پنجاب گورنر پنجاب سے ہدایات لے کر پیش ہوں۔
عدالت نے حمزہ شہباز کی درخواست پر کاروائی جمعے تک ملتوی کر دی۔
ادھر لاہور ہائیکورٹ نے ہی عثمان بزادر کو وزیراعلیٰ پنجاب کے عہدے پر بحال کرنے کی درخواست واپس لینے کی بنیاد نمٹا دی۔
چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل پر سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ جب متاثرہ فریق نہیں تو کیوں درخواست دائر کی۔
وکیل ندیم سرور نے کہا کہ انہوں نے بطور قانون کے طالب علم درخواست دائر کی۔
چیف جسٹس امیر بھٹی نے کہا کہ جب متاثرہ فریق مطمئن ہے تو آپ نے درخواست کیوں دائر کی۔ آپ لوگوں نے عدالتوں کو مذاق بنایا ہوا ہے۔ پورے پاکستان میں شور مچایا ہوا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جمہوریت، جمہوریت، جمہوریت، ذرا سا صبر نہیں کیا یہ جمہوریت ہوتی ہے؟

