ارشد شریف کا واویلا، فیک نیوز پر ہائیکورٹ کا ایف آئی اے کو نوٹس؟
جھوٹ، تضحیک اور منافرت پر مبنی خبریں نشر کرنے پر برطانیہ میں معافیاں مانگنے کے لیے مشہور پاکستانی نیوز چینل اے آر وائے کے اینکر ارشد شریف کی مفروضے پر مبنی ایک درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو نوٹس کر کے جواب طلب کیا ہے۔
جمعرات کو ہائیکورٹ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ایف آئی اے ارشد شریف یا کسی بھی صحافی کو ہراساں نہ کرے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی جی ایف اے اور آئی جی اسلام آباد کو جمعے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے ہدایت کی کہ مجاز افسران ساڑھے دس بجے پیش ہوں، اور وضاحت کریں اینکر ارشد شریف کو ہراساں کیوں کیا جا رہا ہے؟
قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ارشد شریف کی ایف آئی اے کے خلاف درخواست پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے وکیل سے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے؟
وکیل فیصل چوہدری نے بتایا کہ ان کو رات ارشد شریف نے فون پر بتایا کہ وزیر اعظم کے سعودی عرب کے دورے کی خبر انہوں نے بریک کی تھی جس کے بعد سول کپڑوں میں کچھ لوگ ان کے لوگ گئے۔
وکیل فیصل چوہدری کے مطابق کل رات سے ارشد شریف سے ان کا براہ راست رابطہ نہیں ہو رہا اور صابر شاکر کے خلاف بھی غیر قانونی کاروائی شروع کی جا رہی ہے۔
وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ مریم نواز اور سعد رفیق کی ٹویٹس ان کاروائیوں کے حوالے سے آچکی ہیں۔ درخواست گزار ارشد شریف نے گزشتہ رات ہدایت دی کہ پٹیشن فائل کریں۔
وکیل فیصل چوہدری کے مطابق پٹشنر نے شک کا اظہار کیا کہ ایف آئی اے غیر قانونی طور پر ان کو حراست میں لینا چاہتی ہے۔
ادھر ایف آئی اے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے ارشد شریف کو حراست میں لیا نہ ہراساں کیا، یہ بظاہر فیک نیوز لگتی ہے۔
بیان کے مطابق اس حوالے سے ایف آئی اے اور اس کے افسران کے خلاف پروپیگنڈہ قابل مذمت ہے۔
ایف آئی اے نے میڈیا اور لوگوں نے درخواست کی ہے کہ اس پروپیگنڈے سے دور رہیں اور ایسا کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

