کرپٹ انتخابی پریکٹس، تین ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمے کا فیصلہ
پاکستان کے الیکشن کمیشن نے پیپلز پارٹی کے سینیٹر یوسف رضا گیلانی اور ایم پی اے علی حیدر گیلانی کی نااہلی کے لیے دائر پی ٹی آئی کی درخواستیں خارج کر دی ہیں۔
جمعے کو الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ اس کیس کے حقائق اور شواہد ٹھیک طرح پیش نہیں کیے گئے اور درخواست گزار اپنا مقدمہ بنانے میں ناکام رہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے فیصلے میں لکھا کہ اس کیس کی 20 سماعتیں ہوئی اور 12 بار کیس ملتوی کرنے کی درخواستیں درخواست گزار پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے کی گئیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس کیس کا فیصلہ ایک مہینہ بھی محفوظ نہیں رہا۔
پی ٹی آئی کے فرخ حبیب، ملیکہ بخاری، کنول شوذب اور عالیہ حمزہ نے درخواستیں دائر کی تھیں۔
فیصلے کے مطابق یوسف رضا گیلانی کے خلاف براہ راست کوئی شواہد نہیں تاہم الیکشن کمیشن ویڈیو کی بنیاد پر ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو علی حیدر گیلانی کے خلاف انتخابی قانون کی کرپٹ پریکٹس کا مقدمہ درج کرانے کا حکم دیا۔
کمیشن نے ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر کو پی ٹی آئی کے دو ارکان قومی اسمبلی کیپٹن ریٹائرڈ جمیل
اور فہیم خان کے خلاف بھی کرپٹ پریکٹس کے تحت شکایت درج کرانے کا حکم دیا۔

