لوڈشیڈنگ ختم کر دینے کا پاکستان کی حکومت کا دعویٰ کتنا درست؟
پاکستان کی وزارت توانائی نے ملک میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کے وعدے کے مطابق یکم مئی سے ملک میں لوڈ شیڈنگ صفر کر دی گئی ہے۔
وزارت توانائی نے بیان جاری کیا کہ ’وزارت نے بھرپور کوشش سے 2500 میگا واٹ سے زائد اضافی بجلی سسٹم میں شامل کی ہے۔ عید تعطیلات اور بعد ازاں بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے وزارت مستقل کوشاں ہے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ملک کے طول و عرض میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ میں اضافہ دیکھا گیا۔
لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کو کئی شہروں کے صارفین نے غلط قرار دیا اور بتایا کہ ان کے علاقوں میں تاحال بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے۔
بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا کے بعض علاقوں کے صارفین نے سوشل میڈیا پر شکایت کی کہ ان کے شہروں اور قصبوں میں لوڈشیڈنگ جاری ہے اور سخت گرمی زندگی اجیرن ہے۔
دوسری جانب ماہرین کہتے ہیں کہ حکومت نے بڑے شہروں میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں اس لیے کامیابی حاصل کی ہے کہ عید کے دوران کارخانے اور فیکٹریاں بند ہیں جن کی بجلی اب گھریلو صارفین کو فراہم کی جا رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق 2500 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل کرنے کا دعویٰ بظاہر درست نہیں اور اس کا پتا عید کی تعطیلات ختم ہونے پر چلے گا کہ لوڈشیڈنگ پر عارضی قابو پایا گیا یا یہ مسئلہ مستقل حل ہو گیا ہے۔

