لندن میں ن لیگ کا اجلاس، نواز شریف کیا ہدایات دے سکتے ہیں؟
اتحادی حکومت کی اہم جماعت مسلم لیگ ن کے سرکردہ رہنماؤں کا اجلاس لندن میں ہو رہا ہے جس میں پارٹی کے تاحیات قائد نواز شریف مشاورت کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف لندن پہنچے جہاں وہ اجلاس میں شرکت کریں گے.
منگل کو پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا تھا کہ بہت سے ایسے ضروری معاملات اور مسائل ہیں جن پر ان کی پارٹی کے بلائے گئے اجلاس میں بات ہو گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اجلاس میں اگلے عام انتخابات کے لیے مشاورت سب سے اہم معاملہ ہے.
لندن میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ’سر سے پاؤں تک جو سابقہ حکومت تھی وہ بحران ہی پیدا کرتی رہی ہے۔ ہر شعبے میں چاہے وہ آئینی بحران ہے یا معاشی بحران ہے، چاہے وہ سیاسی بحران ہے چاہے وہ معاشرتی بحران ہے۔‘
عمران خان کی ایبٹ آباد جلسے میں تقریر کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نے کہا کہ ’عمران خان نے وہ تباہی مچائی ہے پاکستان کے اندر وہ تباہی مچائی ہے کہ نہ پہلے کسی نے دیکھی ہے اور نہ آئندہ کوئی دیکھے گا۔‘
’یہ بندہ پاکستان کو تباہی اور بربادی کی طرف لے کر جا رہا تھا۔ شکر ادا کریں کہ اس سے جان چھوٹی ہے اور اب انشا اللہ ہمیشہ کے لیے چھوٹے گی۔‘
قبل ازیں وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے لندن میں پارٹی کے اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاسی جماعتیں اپنے فیصلے مشاورت سے کرتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ کوئی سرکاری دورہ نہیں بلکہ پارٹی کے اراکین نجی دورے پر لندن جا رہے ہیں۔
ادھر قومی اسمبلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا تھا کہ آٹھ دس لوگ نجی دورے پر اپنے قائد سے ملنے لندن جا رہے ہیں تاہم یہ کوئی غیر معمولی اجلاس نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ظاہر ہے دورے کے دوران نواز شریف سے پارٹی رہنما ہدایات بھی لیں گے اور مشورے بھی کریں گے کہ آنے والے دنوں میں کیا حکمت عملی ہونی چاہیے۔‘

