پاکستان

نعرے لگائے یا لگوائے؟ علی وزیر کی دوسرے مقدمے میں بھی ضمانت

مئی 11, 2022

نعرے لگائے یا لگوائے؟ علی وزیر کی دوسرے مقدمے میں بھی ضمانت

سندھ ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کے رکن علی وزیر کی ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

بدھ کو سندھ ہائیکورٹ نے علی وزیر کو پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان محسن داوڑ، منظور پشتین اور ڈاکٹر جمیل کو گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی نامزد تین ملزمان کی ضمانت کو چیلنج کیا گیا۔

خیال رہے کہ علی وزیر مختلف تقاریر پر دو مقدمات میں گرفتار تھے جن میں سے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کی تھی۔

وکیل صلاح الدین گنڈا پور ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ علی وزیر کے شریک ملزم ایم این اے محسن داوڑ کو وفاقی وزیر بنانے کی پیشکش کی گئی۔ اگر دونوں غدار ہیں تو پھر ایک کو وفاقی کیوں بنایا جا رہا ہے؟

علی وزیر کے وکیل کے دلائل پر جسٹس محمد اقبال کلہوڑو مسکراتے رہے۔

وکیل نے بتایا کہ کہا گیا علی وزیر اور دیگر نے فوج کے خلاف بیان دیا اور اشتعال انگیزی کی مگر عدالت میں تاحال کچھ پیش نہیں کیا گیا۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے پوچھا کہ تقریر کا ٹرانسکرپٹ موجود ہے؟ علی وزیر نے نعرے لگائے یا نعرے لگوائے؟
عدالت کو پراسیکیوٹر نے بتایا کہ علی وزیر نے تقریر کی، نعرے کسی اور نے لگائے۔ پولیس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پراسیکیوٹر کے مطابق پولیس کانسٹیبل منظور وہاں موجود تھا۔

عدالتی بینچ نے کہا کہ پولیس کانسٹیبل منظور کو چھوڑیں، ہمیں بتائیں تقریر کا ٹرانسکرپٹ کہاں ہے؟ جس کو پشتو زبان نہیں آتی اسے کیا معلوم تقریر کرنے والے نے کیا بیان کیا۔

جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے پوچھا کہ مقدمے میں نامزد محسن داوڑ کہاں ہے؟ اسے گرفتار کیوں نہیں کیا؟

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ محسن داوڈ ایم این اے ہے، گرفتاری کے لیے سپیکر سے اجازت لینا ہوگی۔

عدالتی بینچ نے پوچھا کہ کیا علی وزیر کو گرفتار کرنے کے لیے اسپیکر سے اجازت لی تھی؟

تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ علی وزیر سہراب گوٹھ تھانے میں درج مقدمے میں پہلے سے گرفتار تھے، شاہ لطیف تھانے میں درج مقدمے میں گرفتاری جیل میں ڈالی گئی۔

علی وزیر کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب سپریم کورٹ نے ضمانت منظور کی تو دوسرے مقدمے میں گرفتار کرلیا گیا۔

جسٹس محمد اقبال نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے بادشاہی بنائی ہوئی ہے۔
2018 سے مقدمہ زیر سماعت ہے، ایک گواہ کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا، مفرور ملزمان کو گرفتار کرنے کی کوشش تک نہیں کی گئی۔

تفتیشی افسر نے بتایا کہ منظور پشتین مفرور ہے، گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

عدالت نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ جن ملزمان کی ضمانت منظور کی گئی اسے چیلنج کیا گیا؟

تفتیشی افسر نے بتایا کہ نہیں، جن ملزمان کو ضمانت پر رہا کیا گیا اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا گیا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے