پاکستان

منی لانڈرنگ کیس، شہباز اور حمزہ کی گرفتاری مطلوب ہے: ایف آئی اے

جون 4, 2022

منی لانڈرنگ کیس، شہباز اور حمزہ کی گرفتاری مطلوب ہے: ایف آئی اے

منی لانڈرنگ کیس میں لاہور کی خصوصی عدالت کو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی پراسیکیوشن ٹیم نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے تفتیش مکمل کرنے کے لیے اُن کی گرفتاری مطلوب ہے۔

سنیچر کو حمزہ شہباز کے وکیل نے عدالت میں دلائل میں بتایا کہ ڈیڑھ سال تک تحقیقات کی گئیں لیکن ایف آئی اے کوئی شواہد رکارڈ پر نہ لا سکی۔

وکیل امجد پرویز نے کہا کہ پچھلے دور حکومت میں بدترین سیاسی انجینئرنگ کی گئی۔ لاہور ہائیکورٹ بھی سیاسی انجیرنگ کو حقیقت قرار دے چکی ہے۔

امجد پرویز کے مطابق مشتاق چینی کے بارے میں کہا گیا کہ وہ شامل تفتیش ہوا مگر مشتاق چینی کو گواہ بنایا گیا نہ ملزم بنایا گیا۔

وکیل صفائی نے بتایا کہ باپ بیٹا جب جیل میں تھے وہ ایف آئی اے نے دونوں کو شامل تفتیش کیا۔ گزشتہ دور میں اپوزیشن لیڈرز کو دبانے کے لیے حکومتی مشینری کو استعمال کیا گیا۔

جج نے ایف آئی اے کی پراسیکیوشن ٹیم سے سوال کیا کہ تفتیش کے لیے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی گرفتاری مطلوب ہے۔

ایف آئی اے کے وکیل نے اثبات میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز دونوں کی گرفتاری مطلوب ہے۔ ملزمان شامل تفتیش نہیں ہوئے۔

وکیل صفائی امجد پرویز نے کہا کہ ایف آئی اے کے وکیل غلط بیانی کر رہے ہیں ملزمان شامل تفتیش ہوئے ہیں. سابقہ حکومت کا ایک ہی ایجنڈا تھا کہ کسی طرح انہیں جیل میں ڈالا جائے ۔ حمزہ شہباز شوگر ملز کے ڈائریکٹر رہے نہ شئیر ہولڈر رہے۔
سماعت کے آغاز پر وزیراعظم اور پنجاب کے وزیراعلیٰ عدالت میں پیش ہوئے جن کو حاضری لگانے کے بعد جانے کی اجازت دی گئی۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے نے ضمنی چالان عدالت میں جمع کرایا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے