منشیات کیس، رانا ثنا اللہ پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی پھر موخر
پاکستان کے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں شرکت کے باعث عدالت میں پیش نہ ہو سکے جس پر منشیات کیس میں فرد جرم کی کارروائی ایک مرتبہ پھر مؤخر ہوگئی۔
وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کو گزشتہ دورِ حکومت میں جولائی 2019 میں انسداد منشیات فورس نے گرفتار کیا تھا اور ان کی گاڑی سے 15 کلو ہیروئن برآمد ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔
گزشتہ سماعت میں عدالت نے ہدایت کی تھی کہ وزیر داخلہ کے خلاف 25 جون کو فردِ جرم عائد کی جائے گی۔
رانا ثنا اللہ آج کی سماعت میں پیش نہیں ہوئے اور ان کے وکلا نے بتایا کہ وزیر داخلہ قومی اسمبلی کے سالانہ بجٹ سیشن میں مصروف ہیں۔
جس پر عدالت نے ان کی حاضری معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے 23 جولائی کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
واضح رہے کہ رانا ثنا للہ کو یکم جولائی 2019 کو انسداد منشیات فورس نے موٹروے پر راوی ٹول پلازہ کے نزدیک سے اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ فیصل آباد سے لاہور جارہے تھے۔
گرفتار کیے گئے دیگر افراد میں ان کے ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈ بھی شامل تھے۔
رانا ثنا اللہ کے خلاف کنٹرول آف نارکوٹکس سبسٹینس ایکٹ 1997 کی دفعہ 9(سی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں سزائے موت یا 14 برس کی عمر قید کے علاوہ 10 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہوسکتا ہے۔
ٹرائل کورٹ نے 2 مرتبہ ان کی ضمانت مسترد کی تاہم لاہور ہائی کورٹ نے 24 دسمبر 201 کو انہیں ضمانت پر رہا کردیا تھا۔
رانا ثنا اللہ کے خلاف بے بنیاد مقدمے کا اندراج تحریک انصاف کے دور حکومت میں سیاسی انتقام کی بدترین مثال ہے۔

