تشدد کو جرم قرار دینے کے لیے قانون سازی ناگزیر:ایچ آر سی پی
پاکستان میں پارلیمنٹرین کمیشن فار ہیومن رائٹس (پی سی ایچ آر) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر شفیق چوہدری نے کہا کہ تشدد بین الاقوامی قانون میں قطعا ممنوع ہے۔پاکستان انسانی حقوق کے مختلف آلات کا ایک ریاستی فریق ہے،جو واضح طور پر تشدد پر پابندی لگاتا ہے اوراس کی تمام شکلوں اور تمام حالات میں مکمل ممانعت کا مطالبہ کرتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایچ آر سی پی کے سینٹر فار ڈیموکریٹک ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام تشدد کے خلاف عالمی دن کے موقع پر منعقدہ ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔
شفیق چوہدری نے کہا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 14 شواہد اکٹھا کرنے کے مقاصد کے لیے بھی تشدد کو ممنوع قرار دیتا ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان نے چھ سال قبل اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انسداد تشدد (سی اے ٹی) کی توثیق کی تھی لیکن آج تک ایسی کوئی ملکی قانون سازی نہیں ہوئی جو تشدد کو جرم قرار دے۔
2021 میں سینیٹر شیری رحمٰن کی طرف سے پیش کیا گیا تشدد اور زیرحراست اموات (روک تھام اور سزا) کا بل سینیٹ سے منظور کیا گیا تھا،لیکن تاحال قومی اسمبلی کا مرحلہ طے نہیں کر سکا حالانکہ تشدد کا رواج نہ صرف پولیس بلکہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے نظام میں بھی بہت گہرا ہے۔
ایچ آر سی پی کے کونسل کے رکن فرحت اللہ بابر نے کہا کہ کسی بھی طرح کے حالات میں تشدد کی ممانعت قطعی ہے۔نہ تو جنگی حالات،نہ ہی سیاسی عدم استحکام اور نہ ہی اعلی حکام کا حکم تشدد کے خلاف کوئی دفاع ہو سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تشدد کے متاثرین کو معاوضہ اور بحالی کا حق حاصل ہے۔ ایسے تمام واقعات کی تحقیقات ہونی چاہئیں اور قصورواروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بالترتیب 2008 اور 2012 میں تشدد کے خلاف کنونشن پر دستخط کیے اور اس کی توثیق کی لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ تشدد کو جرم قرار دینے کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔
اجلاس کی صدارت ایچ آر سی پی کونسل کی رکن نسرین اظہر نے کی۔

