بلوچ طلبا کو ہراساں کرنے کا مقدمہ،سیکرٹری داخلہ اور دفاع سے جواب طلب
پاکستان کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے بلوچ طالب علموں کو ہراساں کرنے کے کیس میں سیکرٹری داخلہ اور دفاع سے جواب طلب کر لیا۔
سوموار کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی اور جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کا اجلاس کیوں نہیں طلب کیا گیا؟
پولیس حکام کی جانب دے بتایا گیا کہ جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب کرنے کیلئے دو آگاہی مراسلے بھی بھجوائے گئے تھے۔
چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طلبا کی لسانی بنیادوں پر معلومات اکٹھی کرنے کی اجازت ہر گز نہیں دے سکتے۔ عدالت نے سیکرٹری سینیٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو اگلے ہفتے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے جس میں پوچھا گیا ہے کہ بلوچستان کے طلبا کی شکایات کے ازالے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے۔
عدالت نے سیکرٹری دفاع سے بھی رپورٹ طلب کی ہے جس میں قائداعظم یونیورسٹی کے طلبا کی معلومات اکھٹی کرنے میں ملوث فوجی افسر کے خلاف کارروائی بارے پوچھا گیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت5 جولائی تک ملتوی کر دی۔

