پاکستان

لاپتہ افراد کے ورثاء سراپا احتجاج،ظلم سے طبیعت بھری نہیں؟

جون 28, 2022

لاپتہ افراد کے ورثاء سراپا احتجاج،ظلم سے طبیعت بھری نہیں؟

بلوچستان کے لاپتہ افراد کے ورثاء کراچی پریس کلب کے سامنے سراپا احتجاج ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اگر انکے پیاروں کا کوئی جرم ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔

بلوچ لاپتہ افراد کی آواز(وی بی ایم پی) کے مطابق کراچی پریس کلب کے سامنے کیمپ میں دیگر لاپتہ افراد کے ورثاء کے ہمراہ سعید عمر کی بوڑھی والدہ بھی گزشتہ پانچ روز سے اپنے بیٹے کی بحفاظت واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

سعید عمر کی والدہ نے اپیل کی ہے کہ اگر اسکے بیٹے پر کوئی الزام ہے تو اسے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے بصورت دیگر اسے رہا کیا جائے۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں سالہا سال سے جبری گمشدگیوں جیسی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر ہر جانب خاموشی ہے۔ ورثاء دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہو رہی۔

ملک میں لوگوں کو اٹھانے،گم کر دینے،فروخت کر دینے،گولیوں سے چھلنی اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے اور چھپ کر دفنانے جیسے واقعات رونما ہوتے رہےلیکن پاکستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر آج تک کسی کو سزا نہیں ملی۔

کیا ایسی ریاست مہذب کہلا سکتی ہے جہاں سالہا سال سے لاپتہ لوگوں کا کچھ پتہ نہ چلے اور جہاں آئے روز لوگ غائب ہو رہے ہوں اور جہاں حکومت،عدلیہ بے بس دکھائی دیں؟ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے