پاکستان

سندھ ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی، نامزد سات افراد پر شدید اختلافات کے بعد اجلاس ملتوی

جون 28, 2022

سندھ ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی، نامزد سات افراد پر شدید اختلافات کے بعد اجلاس ملتوی

مطیع اللہ جان. اسلام آباد

چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں سندھ ہائی کورٹ میں ججوں کی تعیناتی کے لیے سات ججوں کے ناموں پر پانچ گھنٹوں کی بحث کے بعد بھی اتفاق نہ ہو سکا، ذرائع کے مطابق اجلاس بے نتیجہ رہنے کے بعد چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں ناموں پر دوبارہ غور کے لئیے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئیے ملتوی کر دیا۔

اجلاس کے بعد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے مختصر گفتگو میں بتایا کہ اجلاس میں تمام ناموں پر حتمی فیصلے کو متفقہ طور پر موخر کر دیا گیا اور اجلاس بہت دوستانہ ماحول میں ہوا جس میں مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔

چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کیطرف سے سندھ ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی کے لئیے سات نام تجویز کئیے گئے تھے جن میں
امجد علی بوہیو سیشن جج
ارباب ہاکڑو ایڈووکیٹ
عبدالرحمان ایڈووکیٹ
خرم رشید ایڈووکیٹ
راشد سولنگی جج ATC
سعد قریشی سیشن جج اور
خادم حسین سومرو ایڈووکیٹ شامل تھے۔

جوڈیشل کمیشن کے منظور شدہ نام ججوں کی تقرری متعلق پارلیمانی کمیٹی کے سامنے رکھے جاتے ہیں اور اگر پارلیمانی کمیٹی چودہ دن میں ان ناموں پر غور نہیں کرتی تو یہ نام حتمی تعیناتی کے لئیے منظور تصور ہو کر صدر مملکت کے پاس باقاعدہ نوٹیفیکیشن کے لیے بھیج دئیے جاتے ہیں۔ آٹھ رکنی پارلیمانی کمیٹی ٹھوس تحریری وجوہات کی بنا پر کسی جج کے نام پر تین چوتھائی اکثریت کیساتھ اعتراض کر سکتی ہے جس صورت میں جوڈیشل کمیشن نیا نام تجویز کرے گا.

پاکستان بار کونسل کے کمیشن میں نامزد نمائندے ایڈوکیٹ اختر حسین نے ایم جے ٹی وی کو منگل کے روز ایک خصوصی انترویو میں بتایا تھا کہ وکلا کو اعتراض ھیکہ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے لسانی بنیادوں پر دباؤ میں آ کر دو طے شدہ نام فہرست سے نکال دیے، ایڈوکیٹ ثنا اکرم منہاس اور ایڈوکیٹ کاشف سرور پراچہ کیخلاف مخالفین نے مہم چلائی تھی کہ انکا تعلق سندھ سے نہیں ہے اور انکے والدین سندھ سے باہر سے آئے تھے۔

بدھ کے روز سندھ ہائی کورٹ کے سات ناموں پر غور کرنے کے لیے بلائے گئے اجلاس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علالت کے باعث ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کی، جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے بھی سپین سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی،

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے بھی لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی، چیف منسٹر سندھ سید مراد علی شاہ جنکے پاس صوبائی وزیر قانون کا قلمدان بھی ہے بذات خود اجلاس میں شرکت کے لیے اسلام آباد سپریم کورٹ کی عمارت میں پہنچے، انکے علاوہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تاڑر، سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ اور ان کے سینیر ساتھی جج جسٹس سعادت نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ ہائی کورٹوں میں ججوں کی تعیناتی کے لئیے نو رکنی مستقل کمیشن کے علاوہ متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، سینیر جج، صوبائی وزیر قانون اور صوبائی بار کونسل کے نمائندے شریک ہوتے ہیں۔ ہائی کورٹوں میں تعیناتی کے لئیے جوڈیشل کمیشن کے کل تیرہ اراکین اکثریت ووٹ سے فیصلے کرتے ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کے لئیے ایک نو رکنی مستقل جوڈیشل کمیشن ہوتا ہے جسکی سربراہی چیف جسٹس کرتے ہیں اور انکے ساتھ سپریم کورٹ کے چار سینیر ترین جج، ایک ریٹائرڈ سپریم کورٹ جج، ایک پاکستان بار کونسل کا نمائندہ، اٹارنی جنرل اور وزیر قانون کمیشن کے رکن ہوتے ہیں۔

کمیشن ۲۹ جون بروز بدھ لاہور ہائی کورٹ کے تیرہ اڈیشنل ججوں کی مستقلی پر بھی فیصلہ کریگا جنکو ایک سال پہلے تعینات کیا گیا تھا، ذرائع کیمطابق ان تیرہ ججوں میں سے جسٹس سہیل ناصر کو عہدے سے فارغ کرنے کی سفارش لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس امیر حسین بھٹی کیطرف سے کی گئی ہے جبکہ دیگر بارہ ججوں کو مزید مدت کے لیے بطور اڈیشنل جج برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے اور یوں ان بارہ ججوں کو ایک سال بعد بھی مستقل نہ کیے جانے کا امکان ہے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے