وزیر انسانی حقوق کا بیان قابل مذمت،ریاستی اداروں کو قانون شکنی کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا:ڈی ایچ آر
پاکستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کی تنظیم ڈیفنس آف ہیومن رائٹس (ڈی ایچ آر ) نے وفاقی وزیر انسانی حقوق کے جبری لاپتہ افراد متعلق حالیہ بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی اداروں کے ہاتھوں لاپتہ اپنے پیاروں کی تلاش اور ریائی کیلئے سالہا سال سے جدوجہد کرتے ہوئے ورثاء کیساتھ سنگین مذاق قرار دیا ہے۔
وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے کہا تھا کہ” ہو سکتا ہے جبری گمشدہ افراد کو کلبھوشن یادیو جیسے انڈین جاسوسوں نے ہائیر کر لیا ہو یا انہیں پیسے کا لالچ دے کر دشمن ملک کی ایجنسیوں نے ساتھ ملا لیا ہو۔ریاض پیرزادہ کا استدلال یہ بھی تھا کہ جبری گمشدہ افراد کے معاملے میں ملکی خفیہ ایجنسیوں کو فری ہینڈ دینا چاہئیے اور اس معاملے پر سویلین تحقیقاتی کمیشن وغیرہ بنانے کی جھنجٹ میں نہیں پڑنا چاہئیے”۔
جبری گمشدہ افراد کے لواحقین انسانی حقوق کمیشن اور انسانی حقوق کے کارکن اور سول سوسائٹی یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ جبری گمشدہ افراد نے اگر ملکی سلامتی کے خلاف یا دیگر کوئی جرم کیا ہے تو ان کے خلاف مقدمات درج کر کے کاروائی کی جائے۔جبری گمشدہ کرنا ملکی آئین اور بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی اور قابل تعزیر جرم ہے۔
چیئرپرسن ڈی ایچ آر آمنہ مسعود جنجوعہ نے وزیر انسانی حقوق حق کی کم فہمی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان خاندانوں کا سامنا کیسے کر سکتے ہیں جن کو خفیہ ایجنسیوں کے لوگ پورے محلے اور خاندان کے سامنے جبری طور پر اغوا کرکے لے گئے،یہ بیان دکھی خاندانوں کے لیے مزید دکھ کا باعث ہے۔
آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ وفاقی وزیر انسانی حقوق خفیہ اداروں کو کھلی چھٹی دینے کی بات کرتے ہیں جبکہ ہم سالہا سال سے جدوجہد کر رہے ہیں کہ ریاستی اداروں کو قاعدے ضابطے کے اندر لایا۔قومی مفاد کے نام پر قانون شکنی کا لائسنس نہیں دیا جا سکتا۔جبری گمشدگی کو جرم قرار دینے کیلئے قانون سازی کی جائے اور اپنی حدوں سے تجاوز کرنے والوں کا محاسبہ کیا جائے۔یہ اتحادی حکومت کے وزیر انسانی حقوق کس قسم کا بیان دے رہے ہیں اور سالہا سال سے انصاف کے متلاشی ورثاء کے زخموں پر مزید نمک چھڑک رہے ہیں۔
آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ یہ حکمران اقتدار میں نہیں ہوتے تو لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں لیکن اقتدار کی مسند پر براجمان ہوتے ہی سنگدل ہو جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت جبری گمشدگی کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی تو اس طرح کے بیان جاری کر کے کے لواحقین کو مزید اذیت میں مبتلا کرنے سے گریز کرے۔اس طرح کے بیان کے بعد ریاض پیرزادہ کا انسانی حقوق کے وزیر کی حیثیت سے کام کرنا ہرگز قابل قبول نہیں ہو سکتا.
ڈیفنس آف ہیومن رائٹس اور لاپتہ افراد کے لواحقین مطالبہ کرتے ہییں وزیر برائے انسانی حقوق ریاض پیرزادہ فوری طور پر استعفی دیں ،تاکہ یہ عہدہ ایسے شخص کو سونپا جائے جو اس کی اہلیت رکھتا ہو اور جو انسانی حقوق سے کھیلنے والوں کو کھلی چھٹی دینے کے بجائے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں روکنے کیلئے کردار ادا کرے۔

