پاکستان

جبری گمشدہ بیٹے کی تلاش میں پھرتا معمر والد گھر سے اغوا

جون 30, 2022

جبری گمشدہ بیٹے کی تلاش میں پھرتا معمر والد گھر سے اغوا

پاکستان میں جبری گمشدہ بیٹے کے کیس کی پیروی کرنے والے باپ کو لاپتہ کر دیا گیا۔

عبدالشکور ولد عبدالمجید جن کی عمرتقریبا 63 سال ہے اور وہ محلہ گالم محمد آباد، فیصل آباد کے رہائشی ہیں، پہلے رواں سا ل جنوری میں ان کے بیٹے عبدالرحمن کو سعودی عرب سے جبری گمشدہ کر دیا گیا تھا اور وہ اپنے بیٹے کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے۔

کمیشن آف انکوائری اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی کیس درج کروایا اور بیٹے کی تلاش میں بہت سے حکومتی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔

بیٹے کے کیس کی پیروی کرنے والے بوڑھے با پ عبدالشکور کو 29 جون 2022 کی رات گھر سے جبری اغواء کر لیا گیا ،رات گیارہ بجے کے قریب 14 سے 15 لوگ ڈالے میں آئے،جن میں سے کچھ کالی وردی اور کچھ سادہ لباس میں ملبوس تھے، زبردستی گھر میں داخل ہوئے اور بابا عبدالشکور کو بغیر کسی جرم کے، اپنے ساتھ لے گئے۔

اہلخانہ نے پوچھا کہ آپ ان کو کہاں لے کر جا رہے ہیں تو بتایا گیا کہ پولیس اسٹیشن لے کر جا رہے ہیں تفتیش کے بعد چھوڑ دیا جائے گا مگر اب تک ان کا کوئی پتہ نہیں ہے ،

اہل خانہ پولیس کے پاس گئے توانہوں نے کہا کہ جب تک جج کے ہاتھ سے لکھوا کر نہیں لاتے تب تک ان کو رہا نہیں کیا جائےگا۔

ڈیفنس آف ہیومن رائیٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا جنگل کا قانون ہے جہاں بزرگ شہری بھی جبری گمشدگی جیسے ظلم سے بچ نہیں سکتے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ کا مزید کہنا تھا کہ اس واقعے میں پنجاب پولیس ، سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس وغیرہ شامل ہیں.

ان کا کہنا تھا کہ اگر بابا عبدالشکور کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو ہم آئی جی پنجاب پولیس ، سی ٹی ڈی اور ایلیٹ فورس کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں کیس کریں گے اورسوشل میڈیا پر تحریک چلائیں گے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے