اہم خبریں پاکستان

منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنا غیر آئینی:جسٹس مظہر عالم

جولائی 7, 2022

منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنا غیر آئینی:جسٹس مظہر عالم

جہانزیب عباسی۔اسلام آباد

منحرف اراکین کی تاحیات نا اہلی متعلق دائر صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ کے جسٹس مظہر عالم میاں خیل کی تحریر کردہ اختلافی رائے جاری کر دی گئی ہے۔

جسٹس مظہر عالم خیل نے لکھا کہ انتظار کے باوجود آرٹیکل 63اے سے متعلق اکثریتی رائے نہیں دی گئی۔ تیرہ جولائی کو میں ریٹائر ہورہا ہوں اس لیے اختلافی رائے جاری کی۔

انہوں نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ سیاسی جماعت کے رکن کو منحرف ہونے پر بددیانت ، خائن قرار دینا آئین بنانے والوں کی دانست کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ منحرف ہو جانے پر رکن کو ڈی سیٹ کرنے کا پورا طریقہ آئین نے خود دے رکھا ہے۔

منحرف رکن کو صدرمملکت کی توقع کے تحت تاحیات نا اہل نہیں قرار دیا جاسکتا۔ منحرف رکن کو تاحیات نا اہل قرار دینا آئین کو دوبارہ تحریر کرنے کے مترادف ہے۔ عدالتیں قانون بنانے کے بجائے قانون کی تشریح کرتی ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ اگر کسی قانونی شق کا غلط استعمال کیا جارہا ہے تو یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ وہ ترمیم کرے یا قانون ختم کردے۔ آئین پاکستان اختیارات کی تکون کا تصور دیتا ہے۔

ریاست کے کسی ستون کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ دوسرے کے اختیار میں مداخلت کرے۔ منحرف رکن کا ڈالا گیا ووٹ شمار نہ کرنے کے اکثریتی فیصلے سے اتفاق نہیں کر تا۔

آئین پاکستان میں منحرف رکن کا ووٹ شمار نہ کرنے کا کوئی تذکرہ نہیں ہے،منحرف رکن کے ووٹ کو شمار نہ کرنے سے کبھی وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہی نہیں ہوسکتی۔

اختلافی نوٹ کے مطابق اگر آئین میں فاش غلطیاں ہیں تو انھیں درست کرنا عدلیہ کا کام نہیں بلکہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔ اراکین کی خریدوفروخت کو روکنا بھی پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔

منحرف رکن کی نا اہلی کی مدت کا تعین کرنے کیلئے پارلیمنٹ کو قانون سازی کی ہدایت دینا درست نہیں۔ آئین پاکستان نے بذات خود منحرف رکن کی سزا کا تعین کر رکھا ہے۔

بلاشعبہ ہمارے قانون بنانے والے منحرف اراکین کا راستہ روکنے کیلئے مکمل اہلیت رکھتے ہیں۔ صدارتی ریفرنس میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دینا عدلیہ کا حدود سے تجاوز کرنے کے مترادف ہے۔

جسٹس مظہر عالم خیل نے لکھا کہ منحرف ہوجانا اگر کینسر ہے اسے ایک منصف کو اپنے قلم کے زریعے نہیں روکنا چاہیے،یہ پارلیمنٹ کا کام ہے کہ کینسر کے ٹیومر کو سرجیکل آپریشن کے زریعے ختم کرے۔

آرٹیکل 63اے میں مزید کسی طرح کی تشریح کی گنجائش ہی نہیں ہے ،ریفرنس میں پوچھے گئے تمام سوالات کا جواب نفی میں دیتا ہوں۔

منحرف رکن کی سزا میں مزید سختی کرنے کیلئے پارلیمنٹ آزاد ہے،صدارتی ریفرنس کو مسترد کرتے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے