روپے کی قدر گرنے کی بڑی وجہ سیاسی ہلچل: وزیر خزانہ
پاکستان کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ایندھن کی امپورٹ کم ہو گئی ہے اور معیشت کا حال اچھا چل رہا ہے، اب ملک میں 60 دن کے ڈیزل کا ذخیرہ موجود ہے۔
بدھ کواسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں وزیر خزانہ نے کہا کہ بہت سے ڈیلروں نے تیل ذخیرہ کر رکھا تھا جس کا انہیں فائدہ ہوا مگر اب ملک میں 60 دن کا ڈیزل کا ریزرو ہے جس کے باعث اگلے ماہ ڈیزل کی امپورٹ کم ہو گی جبکہ ایندھن کی درآمد بھی کم ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سٹیٹ بینک کے نئے گورنر کے تعیناتی کی جلد منظوری دے گی۔ ’سٹیٹ بینک کے گورنر کے تقرر اور روپے کی قدر گرنے کی موجودہ صورتحال کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ ماہ 700 ملین ڈالر کا ایندھن درآمد کیا گیا۔ خوشی ہوئی کہ حکومت کے معاشی اقدامات کا فائدہ ہوا۔ ’اپریل اور جون میں کوشش کی کہ امپورٹ کم کریں۔ گزشتہ تین ماہ میں امپورٹ کم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔‘
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو چکا ہے اور بورڈ سے اب ایک رسمی کارروائی باقی ہے۔ ورلڈ بینک کے ساتھ دو بڑے پراجیکٹس ہیں جن کے لیے 600 ملین ڈالر ملیں گے۔ ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے بھی 600 ملین ڈالر ملنا ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک دوست ملک تیل فراہم کرے گا جبکہ ایک اور دوست ملک سٹاک ایکسچینج میں ایک ارب ڈالر سرمایہ کرے گا۔دو تین مزید چیزوں میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کا بھی سوچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈالر کی اڑان پوری دنیا کے سامنے ہے صرف روپے کی قدر ہی نہیں گر رہی، پوری دنیا میں ڈالر بڑھ رہا ہے۔ تاہم پاکستان میں اس کی بڑی وجہ سیاسی ہلچل ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کوشش ہے کہ امپورٹ اور ایکسپورٹ ترسیلات زر کے برابر کر لیں۔حکومت نے آٹھ لاکھ ٹن گندم خرید لی ہے۔ یہ ہماری ضروریات سے بڑھ کر ہے تاکہ قیمت نہ بڑھے۔ دو لاکھ ٹن یوریا بھی خرید رہے ہیں.

