اسلام آباد میں غیر ملکی خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعے کی تحقیقات
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے 14 اگست پر غیرملکی خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو استعمال کرتے ہوئے ہراساں کرنے والے نوجوانوں کی شناخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
خیال رہے 14 اگست کو پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر اسلام آباد کے علاقے شکرپڑیاں میں واقع پاکستان مونومنٹ پر دو غیر ملکی خواتین کو ہراساں کیا گیا تھا جس کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو غیرملکی خواتین کے اردگرد لوگ جمع ہیں اور ان کے اردگرد باجے بجائے جارہے ہیں اور ان پر فقرے بھی کسے جا رہے ہیں۔
ویڈیو میں کچھ ایسے لوگوں کی آوازیں بھی سنی جاسکتی ہیں جو ان خواتین کو اس مقام سے باحفاظت نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہیں ہراساں کرنے والوں کو سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اسلام آباد پولیس نے پیر کی رات کو اس واقعے کی ایف آئی آر درج کی تھی۔ مقدمے کے تفتیشی افسر آصف علی کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے والے افراد کی شناخت کے لیے تمام ذرائع استعمال کر رہے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے مقدمہ وائرل ہونے والی ویڈیو کی بنیاد پر درج کیا ہے اور انہیں تاحال یہ نہیں پتہ چل سکا کہ ہجوم کی جانب سے ہراساں کی جانے والی خواتین کون ہیں اور ان کا تعلق کس ملک سے ہے۔
تفتیشی افسر نے مزید کہا کہ ’ہم غیرملکی خواتین کو ڈھونڈنے کی بھی کوشش کررہے ہیں تاکہ تفتیش میں مدد مل سکے۔ ہم بہت جلد انہیں تنگ کرنے والے افراد کے خلاف کارووائی کریں گے۔‘
دوسری جانب اسلام آباد کے انسپیکٹر جنرل (آئی جی) اکبر ناصر خان نے بھی واقعے کا نوٹس لیا ہے اور پولیس کو ہدایت جاری کی ہے کہ وائرل ہونے والی ویڈیو نادرا کو بھجوائی جائے اور ویڈیو میں موجود ملزمان کی شناخت کرکے انہیں گرفتار کیا جائے۔

