شہباز گل کے وکیل نے بھی مؤکل کے بیان کو نامناسب قرار دے دیا
اسلام آباد کی مقامی عدالت میں شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے ایمان مزاری پر فوج کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی ار کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ ایمان مزاری نے ایک بیان دیا جس پر فوج کے جیگ برانچ نے مقدمہ درج کیا۔
وکیل کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمان مزاری کی جانب سے غیر مشروط معافی ہر ایف آئی آر خارج کر دی۔
وکیل نے سوال اٹھایا کہ بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج کرنے کے لیے کیا وفاقی حکومت سے اجازت لی گئی؟
وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ شہباز گل نے جو بیان دیا اس میں حب الوطنی جھلکتی ہے۔ اس میں صرف ایک جملہ نامناسب تھا لیکن وہ بھی جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔
سلمان صفدر نے شہباز گل کا بیان عدالت میں پڑھ کر سنایا۔
بیان میں شہباز گل کے فوجی شہدا سے متعلق گفتگو کو پڑھا گیا۔
بیان میں کہا گیا تھا کہ “کسی شہید کے لیے کوئی ایسا کام کرے تو ہم اسے معاف نہیں کرسکتے۔ جن لوگوں نے فوج کو گالیاں دیں ان کو وزیر دفاع بنایا گیا یے۔”

