الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے خلاف پی ٹی آئی درخواست پر نوٹس
پاکستان کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کی رپورٹ کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواست کے قابل سماعت ہونےپر فیصلہ سناتے ہوئے ابتدائی نوٹس جاری کیا ہے.
جمعرات کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کی رپورٹ کیخلاف رٹ درخواست کی سماعت ہوئی، جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل بنچ نے سماعت کی.
تحریک انصاف کی طرف سے ایڈوکیٹ کیپٹن ریٹائرڈ انور منصور اور ایڈوکیٹ شاہ خاور پیش ہوئے۔
ایڈوکیٹ انورمنصور نے کہا کہ درخواست میں الیکشن کمیشن کی رپورٹ کو چیلنج کیا گیا ہے، اس رپورٹ کی بنیاد خود کو تحریک انصاف کا بانی رکن ظاہر کرنے والے ایک شخص کی درخواست تھی، ۲۰۱۷ میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد ۲۰۱۸ میں تحریک انصاف کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی کا آغاز ہوا جبکے سپریم کورٹ نے تمام جماعتوں کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی کا فیصلہ دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ کسی بھی جماعت کو غیر ملکی مدد سے چلنے والی جماعت قرار دینے کا اختیار صرف وفاقی حکومت کا ہے، اور الیکشن کمیشن کا یہ فرض ہے کہ جماعتوں کے اکاؤنٹس کی سکروٹنی کرے جو منصفانہ اور بلا امتیاز ہو گی۔ اور اس حوالے سے گزشتہ ۵ سال کے اکاؤنٹس کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں واضح کیے گئے دائرہ اختیار سے بہت باہر جا کر ہی ٹی آئی کیخلاف کاروائی کی۔
انور منصور نے دلائل دیئے کہ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت غیر ملکی افراد یا کمپنیوں یا مقامی ملٹی نیشنل کمپنیوں سے وصول شدہ رقوم بھی ممنوعہ فنڈنگ کہلائیں گی۔ اگر ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہوتی ہے تو اسکا نتیجہ ان رقوم کی بحقِ سرکار ضبطگی ہوتا ہے اور اسکے علاوہ اور کچھ بھی سزا نہیں دی جا سکتی۔ اسکے علاوہ قانون کے تحت الیکشن کمیشن سیاسی جماعتوں کو اپنے جمع کرائے گئے سالانہ آمدنی و اخراجات کے گوشواروں کی دستاویزات و ریکارڈ کی درستگی کے لیے ساٹھ دن کا موقعہ بھی دیتا ہے، قانون کے تحت پارٹی گوشواروں کے فارم میں ۲۰۱۹ میں ترمیم کی گئی اور ذرائع آمدن کی تفصیل بھی مانگی گئی۔چندہ دینے والے کا نام، شناختی کارڈ اور دیگر معلومات بھی مانگی گئی، غیر ملکی ذرائع سے فنڈنگ کو ۲۰۱۹ میں ممنوعہ قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ صرف نادرہ کا کارڈ رکھنے والے پاکستانی ہی سیاسی جماعت کو فنڈنگ کر سکتے ہیں، پی ٹی آئی کے فنڈنگ کی سکروٹنی ۲۰۱۸ میں حنیف عباسی کیس میں سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے بعد شروع کی گئی جس میں تمام جماعتوں کی سکروٹنی کا کہا گیا تھا، تو پھر سکروٹنی کے لیے ہی ٹی آئی اور دیگر جماعتوں کو بھی نوٹس دیا گیا۔
جسٹس میاں گل اورنگزیب نے پوچھا کہ سکروٹنی کمیٹی کے ٹی او آرز کیا طے کیے گئے تھے، ایڈوکیٹ منصور نے ٹی او آرز پڑھ کر سنائے۔ ٹی او آرز پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے آرٹیکل ۶ کے تحت الیکشن کمیشن نے بنائے تھے جسکے تحت غیر ملکی شھریوں اور کمپنیوں سے فنڈنگ ممنوعہ قرار دی جا سکتی تھی۔
جسٹس میاں گل اورنگزیب نے پوچھا کیا کمیشن رپورٹ میں لفظ “فارن سورس” غیر ملکی ذرائع کا استعمال کیا گیا ہے؟ ایڈوکیٹ انور منصور نے کہا کمیشن نے یہ الفاظ تو استعمال نہیں کیے تاہم یہی کہنے کی کوشش کی ہے، کمیشن نے “ممنوعہ ذرائع” کے لفظ کا استعمال کیا ہے۔ ایل ایل سی کمپنیوں کو بھی غیر ملکی کمپنیوں میں شمار کر لیا گیا ہے حالانکہ یہ پی ٹی آئی کی ایجنٹ کمپنیاں ہیں، ابراج گروپ کی رقوم کبھی بھی سکروٹنی کمیٹی میں زیر غور نہیں لائی گئی، کہا گیا کہ یو اے ای کے قانون کے برخلاف عارف نقوی نے دو ملین امریک ڈالر پی ٹی آئی کو دینے کا اعتراف ایک حلفیہ بیان میں کیا، اب یہ رقوم ۲۰۱۳ میں منتقل کی گئی، پھر کمیشن نے کہا کہ عارف نقوی کو امریکی عدالت نے ۲۰۱۸ میں فراڈ کے کیس میں فرد جرم عائد کیا۔ ووٹن کرکٹ کلب نے فنڈ اکٹھے ہوئے اور وہ ہیسے پی ٹی آئی کو دیے گئے جو ہمارے اکاؤنٹس میں بھی ظاہر کیے گئے، کمیشن نے سکروٹنی کے دوران ہمیں یہ معلومات دی ہی نہیں اور ویب سائٹ سے معلومات اٹھا کر رپورٹ میں ڈال دی۔ یو اے ای قوانین کی تحت افراد کمپنیوں کے ذریعے ہی فنڈنگ کر سکتے ہیں۔ پولیٹیکل پارٹیز ایکٹ کے تحت ٹرسٹ کے ذریعے فنڈنگ پر کوئی پابندی نہیں۔
جسٹس میاں گل نے کہا کہ آپ اپنے دلائل کو اس بات پر محدود کریں کہ یہ فنڈنگ ملٹی نیشنل کمپنیز کے ذریعے نہیں کی گئی۔
ایڈوکیٹ منصور نے کہا کہ ایل ایل سیز ملٹی نیشنل کمپنیاں نہیں ہوتیں ،اب انہیں قانون میں ڈال دیا گیا ہے مگر اسوقت یہ نہیں ہوتی تھی۔
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ کے کیس میں ممنوعہ کے علاوہ جائز فنڈنگ بھی ایک پہلو ہے جس کے تحت صرف افراد سے فنڈنگ کی جا سکتی ہے۔ ایڈوکیٹ انور منصور نے کہا کہ قانون میں یہ نہیں کہا گیا کہ پاکستانی افراد کے علاوہ کوئی فنڈنگ نہیں لی جا سکتی۔
جسٹس میاں گل نے کہا کہ قانون میں پہلے کہا گیا کہ غیر ملکی ملٹی نیشنل یا قومی کمپنیوں سے فنڈ نہیں لیے جا سکتے اور پھر کہا کہ افراد کے علاوہ بھی فنڈ نہیں لیے جا سکتے تو اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ افراد کے علاوہ تمام فنڈنگ ممنوعہ ہو گی۔
ایڈوکیٹ انور منصور نے کہا کہ امریکہ میں کوئی بھی شخص بغیر کمپنی کے پیسے کسی پارٹی کو نہیں دے سکتا۔
جسٹس بابر ستار نے پوچھا کہ آپ کو کمیشن کی رپورٹ کے چند الفاظ پر اعتراض ہے کیونکہ اس میں کوئی ھدایات تو نہیں دی گئیں.
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ رپورٹ میں کسی کارروائی کا حکم نہیں یہ تو محض ایک رپورٹ ہے، ایڈوکیٹ منصور نے کہا کہ کمیشن ایسی رپورٹ بھی نہیں دے سکتا تھا اور رپورٹ میں غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے جو معلومات دی گئیں اور پھر معاملہ وفاقی حکومت کو بھیجا گیا یہ کمیشن کا دائرہ کار نہیں تھا۔
جسٹس بابر ستار نےاستفسار کیا کہ پارٹی کیخلاف کوئی ڈیکلیریشن دیا گیا، ایڈوکیٹ منصور نے کہا جی کمیشن نے دیا ہے، جسٹس عامر نے کہا ایسا نہیں، کوئی ایسا ڈیکلریشن نہیں دیا گیا.
جسٹس بابر ستار نے کہا یہ سب تو آپ کے خدشات ہیں، یہ کوئی ۱۹۷۰ کا عشرہ نہیں جب سیاسی جماعتوں پر پابندی لگا دی جاتی تھی، کسی جماعت پر پابندی لگانا پاگل پن ہوتا ہے۔
ایڈوکیٹ منصور نے کہا کہ کمیشن نے یہ رپورٹ مناسب کاروائی کے لیے وفاقی حکومت کو بھیج دی ہے، جسٹس عامر نے پوچھا تو حکومت نے کون سی کاروائی کی ہے اب تک؟
ایڈوکیٹ منصور نے کہا حکومت نے ایف آئی اے کو تفتیش کے لیے کہہ دیا ہے، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہمیں یہ بتائیں کہ ہم کیا حکم دیں، فنڈنگ کہاں سے آئی یہ سکروٹنی ہم نے نہیں کرنی۔ کمیشن نے پارٹی پر پابندی لگانے کا بھی نہیں کہا۔
جسٹس بابر ستار نے کہا کہ کسی پارٹی پر پابندی کا ڈیکلیریشن کرنا حکومت کا کام ہے الیکشن کمیشن کا نہیں، کمیشن تو محض اپنے اختیارات کو واضح کر رہا ہے، آئین میں واضح ہے کہ یہ اختیار وفاقی حکومت کا ہے اور حکومت کمیشن کی رپورٹ کو نظر انداز کر سکتی ہے، حکومت پارٹی کیخلاف ڈیکلیریشن سے پہلے اپنے اطمینان کے لیے پارٹی کو نوٹس دے گی۔
ایڈوکیٹ منصور نے کہا کہ ایف آئی اے کے نوٹسز میں کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے.
جسٹس عامر نے کہا کے ایف آئی اے نے صرف دیکھنا ہے کہ کوئی جرم تو نہیں سرزد ہوا، ایڈوکیٹ منصور نے کہا کہ ایف آئی اے نے اپنے نوٹسز ز میں کمیشن رپورٹ کے الفاظ استعمال کر کے لوگوں کو حراساں کر رہے ہیں۔ کمیشن نے واضح کیا تھا کہ اسکے سامنے غیر ملکی فنڈنگ کا معاملہ نہیں مگر حکومت ایف آئی اے کے ذریعے مخالف سیاسی جماعت کو نشانہ بنا رہی ہے۔
جسٹس میاں گل نے کہا ایسی باتیں نہ کریں اور اپنا کیس لڑیں، ہم کمیشن کی رپورٹ اور اپنے رٹ اختیارات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس موقعے پر تین ججز نے کچھ دیر مشاورت کی جسکے بعد ایڈوکیٹ منصور نے دلائل جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قانون کے تحت شو کاز نوٹس جاری ہو چکے ہیں اور اگر ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ یہ ممنوعہ فنڈنگ نہیں تو ایسے میں کمیشن کے غیر ملکی فنڈنگ متعلق ریمارکس مناسب نہیں تھے۔ عمران خان کے دستخط شدہ سالانہ سرٹیفیکیٹس کے متعلق کمیشن کے ان ریمارکس کیخلاف بھی دلائل دیے جن میں کہا گیا تھا کہ عمران خان اپنے پانچ سال کے سرٹیفیکیٹ درست انداز میں دینے کی ذمے داری نبھانے میں ناکام رہے ہیں۔
ایڈوکیٹ انور منصور نے کہا کہ یہ ایک ڈیکلیریشن ہے جو کمیشن نہیں دے سکتی تھی، کمیشن کوئی عدالت نہیں، جسٹس بابر ستار کے پوچھنے پر ایڈوکیٹ منصور نے بتایا کہ عمران خان کو سکروٹنی کے دوران کبھی نوٹس نہیں دیا گیا، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اسکا مطلب ہے کہ اس کمیشن رپورٹ پر از خود کچھ نہیں ہو سکتا، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کہ اگر کمیشن رپورٹ کو ختم بھی کر دیں تو ادارے اپنی تحقیقات نہیں روک سکتے، حقائق ختم نہیں ہو سکتے۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

