پاکستان متفرق خبریں

کیا بیت گئی دیس پہ سیلاب کے ہاتھوں،ذمہ دار کون؟

اگست 26, 2022

کیا بیت گئی دیس پہ سیلاب کے ہاتھوں،ذمہ دار کون؟

پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں۔ وفاقی و صوبائی حکومتیں سیلاب متاثرین کی امداد کے لئے کوشاں ہیں لیکن ایک نئی بحث بھی شروع ہو چکی ہے کہ سالہا سال سے یہ سلسلہ جاری ہے تو پھر ڈیم کیوں نہیں بنائے گئے؟

یہ درست ہے کہ قدرتی آفات آتی ہیں لیکن کچھ انسانی غفلت بھی ہوتی ہے۔ڈیم نہ ہونے کی صورت میں نہ صرف پانی کا ضیاع ہوتا ہے بلکہ سیلابی پانی بڑی تباہی کا باعث بنتا ہے۔

مون سون بارشوں اور سیلاب سے انسان،فصلیں،مویشی اور مکانات ہر چیز بپھرے ہوئے پانی کی نذر ہو جاتی ہے۔ لوگوں کے ذہنوں میں سوال یہ ہے کہ اس صورت حال کا ذمہ دار کون ہے؟

آج تک کی تمام سیاسی و فوجی حکومتوں نے ڈیم بنانے پر کیوں توجہ نہیں دی۔ ڈیم کے معاملے پر کیوں اتفاق رائے پیدا نہیں ہو سکتا؟ان فوجی آمروں نے بھی ڈیم کیوں نہ بنائے جو دس دس سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے؟

دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے حالیہ بارش اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیئے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 34 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں 17 بچے،10 مرد اور 7 خواتین شامل ہیں جب کہ اب تک حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 937 ہوگئی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کے پی میں 16، سندھ میں 13، بلوچستان میں 4 اور پنجاب میں ایک شخص جاں بحق ہوا جب کہ سیلاب اور بارشوں کےباعث 50 افراد زخمی ہوئے جس کے بعد سیلاب اور بارشوں کےدوران زخمی افراد کی تعداد1343 ہوگئی۔

این ڈی ایم اے کا بتانا ہے کہ 24 گھنٹوں میں مزید 85 ہزار 897 جانور مرگئےجس کے بعد ملک بھرمیں مرنے والے جانوروں کی تعداد 7 لاکھ 93 ہزار 995 ہوگئی ۔

ادھر 24 گھنٹوں میں بارشوں اور سیلاب سے سندھ میں 15 پلوں اور ملک بھرمیں 145 پلوں کو نقصان پہنچا، اس کے علاوہ بارشوں اور سیلاب سے مجموعی طور پر 6 لاکھ 70 ہزار 328 گھر متاثر ہوچکے ہیں۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے