پاکستانی گوانتاموبے کب بند ہوں گے؟
رستم اعجاز ستی/اسلام آباد
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کی آڑ میں قائم کردہ خفیہ حراستی مراکز(پاکستانی گوانتاموبے) تاحال بند نہ ہو سکے۔۲۰۱۹ میں پشاور ہائیکورٹ کو بھی ان خفیہ حراستی مراکز کو غیر قانونی قراردے چکی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھی جبری گمشدگی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر بھی ایک مرتبہ لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے،انٹلیجنس ایجنسیوں کو کسی قاعدے ضابطے کے اندر لانے اور ان حراستی مراکز کو ختم کرنے کے مطالبات کئے گئے ہیں۔
ہمارے فیصلہ سازوں نے سات سمندر پار سے آنے والی ایک کال کے بعد ہماری جنگ ہماری جنگ کی گردان شروع کر دی تھی جبکہ لوگ پوچھتے رہے کہ اگر یہ ہماری جنگ ہے تو اس بگل سات سمندر پار سے کیوں بجا؟
پھر اسی دور سیاہ کار میں لوگوں کو غائب کرنے، گم کرنے،تشدد کرنے اور فروخت کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔لوگ دہائی دیتے رہے کہ کوئی کسی دہشت گرد کا حامی نہیں اگر کسی کا کوئی قصور ہے تو اسے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے اور سخت سزا دی جائے لیکن انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری رہیں اور جبری گمشدگی کا سلسلہ نہ رک سکا۔
جبری گمشدگیوں کے ساتھ ہی ملک میں گوانتاموبے طرز کے عقوبت خانے (حراستی مراکز ) کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جہاں سے قیدیوں پر بے رحمانہ تشدد کے واقعات بھی منظر عام پر آنے لگے۔
ان حراستی مراکز میں ہونے والے ظلم و استبداد کی تمام تر تفصیلات کبھی بھی سامنے نہیں آئیں لیکن جو کچھ بھی سامنے آتا رہا وہ یہ باور کرنے کیلئے کافی تھا کہ اگر پاکستان ایک ریاست ہے تو بھی پوری طرح مہذب ریاست نہیں۔
ان عقوبت خانوں سے زیر حراست لوگوں کی لاشیں ملتی رہیں۔کھانے میں چھپکلیوں کے نکلنے کے واقعات رونما ہوتے رہے۔ایک مرتبہ وہاں سے کچھ لوگ مجبورا عدالت میں پیش کرنے پڑے تو انکی حالت جو مسخ شدہ لاشوں جیسی تھی جنہیں دیکھ انکی معمر والدہ اگلے روز انتقال کر گئی۔انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور دلخراش داستانوں کا سلسلہ جاری رہا۔
سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی جبری گمشدگی کے عالمی دن کے موقع پر ایک مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے انسانی حقوق سے متعلق اس انتہائی اہم معاملے پر روشنی ڈالی۔
ان کا کہنا تھا کہ عدالتی سماعتوں کے دوران یہ بات سامنے آئے تھی کہ لاپتہ افراد کی ایک بڑی تعداد کو سابق قبائلی علاقوں اور کے پی میں فوج کے زیر کنٹرول مبہم حراستی مراکز میں بند کر دیا گیا ہے۔ ۲۰۱۹ میں پشاور ہائیکورٹ نے انہیں غیر قانونی قرار دیتے ہوئے انہیں پولیس کے زیر کنٹرول رکھنے کا حکم دیا تھا۔تاہم سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے حکم پر حکم امتناع جاری کر دیا۔
انکا کہنا تھا کہ دسمبر ۲۰۱۹ کے بعد سے اس کیس کی کوئی سماعت نہیں ہوئی اور لاپتہ کئے گئے افراد کو ان گونتاموبے میں جیلوں کی طرح رکھا جاتا ہے جس میں قانونی دفاعی مشیر یا اہل خانہ کے لئے ملاقات کے حقوق تک رسائی نہیں ہے۔
ان حراستی مراکز میں زیر حراست اموات اور تشدد کی شکایات بھی موصول ہوئی ہیں لیکن ان کی تحقیقات نہیں کی گئیں۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے اس کیس کی فوری سماعت کی بھی اپیل کی ہے۔
عام لوگوں کے ذہنوں میں سوال یہ ہے کہ یہ خفیہ عقوبت خانے آج بھی آباد کیوں ہیں؟ یہ پاکستانی گوانتاموبے کب بند ہونگے؟

