انسداد دہشت گردی عدالت میں عمران خان کی پیشی، ضمانت میں توسیع
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے خاتون جج کو دھمکی دینے کے مقدمے میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو عبوری ضمانت میں 12 ستمبر تک توسیع دے دی ہے جبکہ نئی دفعات میں بھی ضمانت منظور کر لی ہے۔
جمعرات کو دن بارہ بجے وکیل بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے مؤکل عدالت کے سامنے پیش ہو گئے ہیں۔
وکیل نے کہا کہ انہوں نے دیگر دفعات میں بھی ضمانت کی درخواست دائر کی ہے۔
جج راجہ جواد حسن عباس نے کہا کہ ان دفعات میں بھی ضمانت دے دیتے ہیں، یہ ہر روز نئے دفعات لگاتے رہیں گے، آئندہ سماعت میں اس پر بحث کر لیتے ہیں۔
قبل ازیں جمعرات کی صبح عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور پی ٹی آئی کے چیئرمین کی عبوری ضمانت کی مدت میں توسیع کی استدعا کی۔
جج راجہ جواد عباس نے پوچھا کہ ملزم کہاں ہے؟ ملزم کو عبوری ضمانت دی تھی اُن کو پیش ہونا چاہیے تھا۔
وکیل نے بتایا کہ عمران خان کے خلاف مقدمے میں نئی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
وکیل کا کہنا تھا کہ مزید چار دفعات میں 506،504،186 اور 188 دفعہ شامل کی گئی ہے۔ ان دفعات میں بھی عمران خان کی ضمانت منظور کی جائے۔
جج نے کہا کہ ان دفعات میں ہم نوٹس جاری کریں گے مگر پہلے ملزم کو پیش کیا جائے۔
وکیل کا مؤقف تھا کہ پولیس نے عمران خان کو خطرے کا الرٹ جاری کیا ہے۔
اسلام آباد دہشت گردی عدالت کے جج نے کہا کہ ضمانت کا کیس ہے، عمران خان کو عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑےگا۔
وکیل بابراعوان نے بتایا کہ اسلام آباد پولیس عمران خان کو لکھ کر بھیجتی ہے کہ اُن کی جان کو خطرہ ہے، مجھے گیارہ منٹ بعد دھکم پیل کے بعد عدالت میں داخل ہونے کا موقع ملا تھا۔
جج نے کہا کہ اس ضمانت کی درخواست پر آج ہی دلائل سنیں گے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ پہلے ملزم کو عدالت پیش کریں پھر ہم بحث کریں گے۔
جج نے ریمارکس دیے کہ مقدمے کا ریکارڈ پیش کریں اور جن کو دھمکی دی گئی اُن کا بیان بھی پڑھ کر سنائیں، اس فرض شناس افسر نے اس سے پہلے کتنے دہشتگردی کے مقدمہ کیے ہیں۔

