نواز شریف و زرداری اپنا پسندیدہ آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں: عمران خان
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ نومبر میں نیا آرمی چیف آنے والا ہے اور ’زرداری اور نواز شریف اپنا پسندیدہ آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔‘
اتوار کی شام فیصل آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ان کے الیکشن سے ڈرنے کی وجہ یہ بھی ہے کہ نومبر میں نیا آرمی چیف آنے والا ہے۔‘
عمران خان کا کہنا تھا کہ زرداری اور نواز شریف اپنا فیورٹ آرمی چیف لانا چاہتے ہیں۔ ’یہ ڈرتے ہیں کہ یہاں کوئی تگڑا اور محب وطن آرمی چیف آ گیا تو یہ پکڑے جائیں گے اس لیے یہ اپنا آرمی چیف لگانا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’کیا آرمی چیف ان سے این او سی لے کر بنائیں گے، یہ سکیورٹی رسک ہے کہ ان دونوں کی مرضی کا آرمی چیف لگایا جائے۔ میرٹ پر آرمی چیف لگانا چاہیے وہ کسی کا فیورٹ یا پسندیدہ نہیں ہونا چاہیے۔‘
انہوں نے شریف خاندان اور زرداری خاندان پر چوری اور کرپشن کے الزامات عائد کیے۔
عمران خان نے بلاول بھٹو زرداری کی نقل اتارتے ہوئے کہا کہ ’جب بارش ہوتا ہے تو پانی آتا ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اگلے اتوار ٹیلیتھون کر کے سیلاب متاثرین کے لیے اربوں کے فنڈز اکھٹے کروں گا۔ ’آپ کی تربیت بھی کروں اور آپ کو تعلیم بھی دوں کہ اپنے ملک کو کیسے اوپر اٹھانا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ جب تک کوئی ملک اپنی برآمدات بڑھا کر اپنی دولت نہیں بڑھاتا تو کبھی آئی ایم ایف کی غلامی اور کبھی کسی اور کی غلامی۔
عمران خان نے وزیراعظم شہباز شریف کے بیان کا ویڈیو کلپ بھی چلایا جس میں وہ بیرون ملک سے قرض لینے کی بات کر رہے تھے۔
’ابھی آئی ایم ایف کی رپورٹ آئی ہے جس نے پہلی مرتبہ کہا کہ پاکستان کے معاشی حالات کی خرابی کی وجہ حکومت کی کرپشن ہے۔‘
تحریک انصاف کیے چیئرمین نے کہا کہ ’آئی ایم ایف والے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی استحکام نہیں اور یہ کمزور حکومت ہے۔ سوال پوچھتا ہوں کہ وہ سب جنہوں نے اس حکومت کو ہم پر مسلط کیا تم نے کیا کیا۔قوم سے غداری کی۔‘

