پاکستان

جبری لاپتہ افراد کے ورثاء سراپا احتجاج،حکومت کہاں ہے؟

ستمبر 6, 2022

جبری لاپتہ افراد کے ورثاء سراپا احتجاج،حکومت کہاں ہے؟

رستم اعجاز ستی/اسلام آباد
پاکستان میں اتحادی جماعتوں کی موجودہ حکومت نے بھی تاحال لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کیلئے کوئی سرگرمی نہیں دکھائی۔ریاستی ادارے بے لگام ہو چکے ہیں اور ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

تفصیلات کے مطابق بلوچستان میں وی بی ایم پی کے زیراہتمام لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاجی کیمپ ۴۷۵۱ دن ہو گئے۔کیمپ میں تین ماہ قبل شرک سریاب کسٹم سے لاپتہ عبدالرزاق مری،سات سال قبل مچھ بولان سے لاپتہ کلیم اللہ اور لال محمد مری کے اہلخانہ سراپا احتجاج ہیں اور اپنے پیاروں سمیت تمام لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

دوسری جانب سینتالیس روز سے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے دھرنا دیا جا رہا ہے۔ دھرنے میں لواحقین جو اپنے پیاروں کی بازیابی اور زیارت میں جعلی مقابلے میں مارے جانے والے جبری گمشدگیوں کا شکار لاپتہ افراد کے لئے انصاف کے متلاشی ہیں۔انسانی حقوق کی کارکن سمی دین بلوچ کے مطابق ان سمیت تمام لواحقین اس وقت بیمار ہیں اور انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

یاد رہے کہ ملک کے چاروں صوبوں سے لوگ لاپتہ ہیں جن کے ورثا سراپا احتجاج ہیں۔سوات سے لاپتہ افراد کے ورثا بھی کچھ روز قبل احتجاج کر چکے ہیں۔ ۲۰۰۵ سے لاپتہ افراد کا بھی تاحال کچھ اتہ پتہ نہیں چل سکا۔ کچھ لوگوں کی بازیابی کیلئے پروڈکشن آڈر بھی جاری ہو چکے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں سامنے نہیں لایا جا رہا اور نہ ہی گوانتاموبے کی طرز کے حراستی مراکز تاحال بند کئے گئے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے بعد حکومت نے لاپتہ افراد متعلق ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کی تاحال کارکردگی مایوس کن ہے۔

لاپتہ افراد کے معاملے میں موجودہ اتحادی حکومت کی کارروائی بھی سابقہ حکومت کی طرح زبانی بیانات تک محدود ہے اور لوگ اپنے پیاروں کی تلاش اور رہائی کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔نجانے ظلم و استبداد کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا؟

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے