توہین عدالت کیس، عمران خان کے تحریری جواب میں معافی نہ مانگنے کی وجہ کیا؟
جہانزیب عباسی، صحافی ۔ اسلام آباد
پاکستان تحریک انصا ف کے چیئرمین عمران خان نے توہین عدالت کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کو غیر مشروط معافی نہ مانگنے کی وجہ اپنے ہی حق میں دیئے گئے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظرمیں بیان کی ہے۔
بدھ کو جمع کرائے گئے 10 صفحات پر مشتمل تحریری جواب میں عمران خان کے وکیل ایڈووکیٹ حامد خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو اسلامی ٹچ کے ساتھ تفصیل بتائی ہے۔
عمران خان نے تحریری جواب میں خاتون جج اور پولیس افسران کے لیے استعمال کی گئی زبان پر گہرے افسوس /پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جب انھیں شہباز گل پر تشدد کرنے کی خبر ملی تو غیر ارادی طور پر ان کے منہ سے ایسے الفاظ نکل گئے۔ غیر ارادی طور پر ادا کیے گئے الفاظ خاتون جج کے لیے نہیں تھے، عمران خان خاتون جج کا احترام کرتے ہیں۔
عمران خان نے تحریری جواب میں مزید کہا ”میر ا مقصد خاتون جج کے احساسات مجروح کرنا یا انھیں دکھ پہنچانا نہیں تھا اور اگر میرے الفاظ سے خاتون جج کے احساسات مجروح ہوئے یا انھیں دکھ پہنچا ہو تو مجھے اس پر انتہائی پچھتاوا ہے۔ میں ماتحت عدلیہ سمیت اعلیٰ عدلیہ کا احترا م کرتا ہوں اور چاہتا ہوں عدلیہ مضبوط اور آزاد ہو کر عام آدمی کو انصاف فراہم کرے۔“
تحریری جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ عمران خان نے ہمیشہ ملک میں خواتین کے حقوق کے لیے بات کی اور ماتحت عدلیہ اور اعلیٰ عدلیہ میں خواتین ججز کی نمائندگی کی حمایت کی۔ ”مجھے خاتون جج سے متعلق ادا کیے گئے الفاظ پر پچھتاوے یا ندامت کا اظہار کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں ہو رہی ،میری تقریر کا مقصد انصاف کی فراہمی میں اثر انداز ہونا نہیں تھا۔“
عمران خان اپنے تحریری جواب میں مزید کہتے ہیں مجھے توہین عدالت کیس میں جواب داخل کرانے کا موقع فراہم کرنے پر اُن کی طرف سے شدید تنقید کی گئی جو مجھے سیاسی اکھاڑے سے باہر کرنا چاہتے ہیں ،مجھ پر انسداددہشت گردی کا مقدمہ بنایا گیا ،میں شہباز گل کیس کے اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہونے کے حوالے سے لاعلم تھا ۔
عمران خان مزید کہتے ہیں شہباز گل پر تشدد کی خبر اور آکسیجن ماسک پہنے سانس لینے کی دشواری بارے گل کی ویڈیوز سے ہر شخص کا دل و دماغ متاثر ہوا ،مجھے قانونی ٹیم نے مشورہ دیا مقدمہ زیر سماعت ہے رائے نہ دیں ،تاہم میری انتہائی مصروفیت کے سبب مجھے یہ نہ بتایا جاسکا کہ یہ مقدمہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے ۔
عمران خان نے تحریری جواب میں کہا ”مجھے زیرسماعت مقدمے سے متعلق اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق مکمل بریف کیا گیا اب میں مستقبل میں احتیاط کروں گا۔“
تحریری جواب میں کہا گیا غیر ارادی طور پر پولیس افسران اور خاتون جج سے متعلق ادا کردہ الفاظ کے زریعے شہباز گل شفاف ٹرائل کا حق متاثر نہیں ہو ا کیوں کہ ابھی کیس تفتیشی مرحلے میں ہے اور ٹرائل بھی شروع نہیں ہوا ،اسلام آباد ہائیکورٹ نے جن د وعدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا ان عدالتی نظائر کا عمران خان پر اطلاق نہیں ہوتا کیوں کہ ان واقعات میں باقائدہ پارٹی سربراہ (نواز شریف ) کی ایماءپر سپریم کورٹ کی تضحیک کی گئی اور پاناما کیس فیصلے کا بدلہ لینے یا ردعمل میں ایسا کیا گیا ۔
جواب میں مزید کیا گہا عمران خان پہلے جواب میں اپنے الفاظ واپس لینے کی پیشکش کر چکے ہیں ،فردوس عاشق اعوان کی کسی صورت بھی وضاحت نہیں دی جاسکتی ،جن دو مقدمات مقدمات کا حوالہ دیا گیا اُن میں نہ پچھتاوے کا اظہار کیا گیا اور نہ ہی افسوس کیا گیا ،عمران خان نے جو تقریر کی وہ منظم منصوبہ نہیں تھا ،طلال چوہدری کیس میں سپریم کورٹ کو سکینڈلائیز کیا گیا ،توہین عدالت قانون کا مقصد قانون کی حکمرانی ہے کسی کو سزا دینا نہیں ۔
عمران خان نے اپنے تحریری جواب میں مزید کہا اسلامی اصولوں کے تحت معاف کرنے اور تحمل کا مظاہرہ کرنے کو بھی عدالتوں نے تسلیم کیا ہے ۔
عمران خان نے اپنے ہی سپریم کورٹ کے دو ہزار چودہ میں دیئے گئے توہین عدالت کیس فیصلے کا حوالہ دیا۔
جس پیراگراف کا حوالہ دیا گیا اُس میں سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہر کیس میں غیر مشروط معافی مانگنا نہ ہی کوئی شرط ہے اور نہ ہی عدالتوں کے لیے انا کا مسئلہ ہے۔ غیر مشروط معافی مانگنا توہین عدالت نوٹس کو خارج کرنے کی علامت بھی نہیں۔ عمران خان کا کنڈکٹ اور اُن کی بدن بولی سے عیاں ہوتا ہے کہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں ۔
تحریری جواب میں عمران خان نے اسلام آباد ہائیکورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ عدلیہ کی تضحیک کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ،توہین عدالت کا نوٹس خارج کیا جائے۔

