رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کیس،گواہان کی حکومتی فہرست پیش
اسلام آباد (۷ ستمبر ۲۰۲۲)
مطیع اللہ جان
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سابق جج رانا شمیم کے الزامات درست ثابت ہوئے تو عدالت توہین عدالت کی کاروائی سے بڑھ کر اقدامات اٹھائے گی، سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے خلاف توہین عدالت کاروائی میں اسلام آباد ہائیُکورٹ نے گواہان کی فہرست جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دے دی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے استغاثہ کے وکیل ایڈوکیٹ منور اقبال دُگل سے گواہان کی فہرست کے بارے میں پوچھا اور پھر خود ہی کہا کہ آپ کے گواہان اتنے اہم نہیں، تاہم استغاثہ کے گواہان کی فہرست عدالت میں وصول کر لی گئی۔
ایم جے ٹی وی کو ملنے والی دستاویزُکے مطابق استغاثہ کے گواہان میں ڈپٹی کمشنر اسلام آباد، رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ، ایڈیشنل رجسٹرار اسلاُم آباد ہائی کورٹ، نوٹری پبلک لندن سولسٹر چارلس ڈی گھوتھری شامل ہیں۔ استغاثہ کی فہرست میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا نام شامل نہیں۔
ایڈوکیٹ لطیف آفریدی نے آغاز میں ہی کہا کہ سارے پاکستان کےخلاف توہین عدالت کی کاروائی ہو رہی ہے.
چیف جسٹس نے کہا کہ فردوس عاشق اعوان کیس میں فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ کن کے خلاف کاروائی ہوتی ہے، ایک حلفیہ بیان اگر منظر عام پر آ گیا ہے تو اس کے متن میں درج الزامات ثابت کرنا ملزم کی ذمے داری ہے، ایسے حلفیہ بیان سے زیر سماعت مقدمات کے ملزمان کے منصفانہ ٹرائل کا حق متاثر ہوتا ہے، رانا شمیم کہتے ہیں کہ وہ غیر مشروط معافی مانگنا چاہتے ہیں تو اس حوالے سے اب ان کو حلفیہ بیان کے الزامات کو ثابت کرنا ہو گا اور اگر ثابت نہ ہوا تو پھر غلط فہمی کی بنیاد پر الزامات لگانے کو تسلیم کرتے ہوئے غیر مشروط معافی پر عدالت غور کر سکتی ہے، مگر یہ ایک ریٹائرڈ جج کا حلفیہ بیان تھا اس لیے آج گواہان کی فہرست مانگی گئی تھی۔
ایڈوکیٹ رانا شمیم کے وکیل ایڈوکیٹ لطیف آفریدی نے کہا کہ حلفیہ بیان کا متن ان کے موکل نے مشتہر نہیں کیا اور جس نے کیا آپ انہیں کیسے چھوڑ سکتے ہیں، یہ ایسے ہی ہو گا کہ قتل کا منصوبہ بند کمرے میں بنایا جائے اور منصوبہ سازوں پر قتل کا مقدمہ بنا دیا جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ حلفیہ بیان کے لیک ہونےسے عدالت کا کوئی تعلق نہیں، وہ ایک ریٹائرڈ جج ہیں.
ایڈوکیٹ لطیف آفریدی نے کہا کہ عدالتوں اور ججوں کے بارے میں روزانہ کیا کیا نہیں کہا جاتا.
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ عدالت ملزم کو مکمل کھلی عدالت میں سب کے سامنے منصفانہ ٹرائل دے گی، اس عدالت کے اوپر ایک ریٹائرڈ چیف جج نے اتنا بڑا الزام لگایا اور پھر حلفیہ بیان تسلیم بھی کیا، اگر یہ حلف نامے سے انکاری ہو جاتے تو عدالت اس کو شائع کرنے والوں کے خلاف کاروائی کرتی.
ایڈوکیٹ لطیف آفریدی نے کہا کہ تو پھر کیا وہ جھوٹ بول دیتے؟
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ملزم یا تو کہے کہ وہ الزام کی تردید نہیں کرتے یا پھر منصفانہ ٹرائل کے لیے تیار ہو جائیں اور گواہان کی فہرست فراہم کی جائے، کیا ملزم اپنے حلف نامے کے الزامات کو درست ثابت کرنے سے ہچکچا رہا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جب ایک چیف جج کسی صحافی سے کہے کہ ایسا حلف نامہ کیا گیا ہے تو کوئی بھی اس کی سٹوری بنانا چاہے گا۔ ان کے حلف نامے میں چار گواہ ہیں جن کو بلانے میں عدالت کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی، اس حلف نامے کی سچائی تک عدالت ضرور پہنچے گی، فرد جرم لگ چکی ہے اور اب کاروائی آگے بڑھاتے ہیں۔
ایڈوکیٹ لطیف آفریدی نے دلائل شروع کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کے قانون میں کوئی خاص طریقہ کار وضع نہیں کیا گیا، چیف جسٹس نے سپریم کورٹ کے فیصلوں سے طریقہ کار کی طرف ایڈوکیٹ آفریدی کی توجہ دلائی۔
چیف جسٹس نے کہا کہ توہین عدالت کیس میں ثبوت پیش کرنے کا بوجھ توہین عدالت کے ملزم پر ہوتا ہے،اگر آپ تاخیر کرنا چاہتے ہیں تو اور بات ہے.
ایڈوکیٹ آفریدی نے کہا کہ ہم تاخیر نہیں چاہتے ہمیں دیوار پر لکھا نظر آ رہا ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ دیوار پر کچھ نہیں لکھا.
ایڈوکیٹ آفریدی نے کہا کہ میرا مطلب ہے یہ کاروائی تو آگے بڑھنی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا اس عدالت کی عزت اور وقار اب اس حلف نامے سے جڑا ہے۔ ایڈوکیٹ آفریدی نے کہا کہ ایک حلف نامے سے عدالت کی عزت و وقار پر فرق نہیں پڑتا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے واضح کیا کہ اگر ملزم نے اپنے حلف نامے کے الزامات کو ثابت کر دیا تو یہ عدالت توہین عدالت سے بڑھ کر مزید کاروائی بھی کرے گی۔
سابق چیف جج گلگت بلتستان ایڈوکیٹ رانا شمیم کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی میں اٹارنی جنرل اشتر اوصاف کی طرف سے استغاثہ کے طرف سے چار گواہان کے نام جمع کرا دیے گئے ہیں.
استغاثہ کے گواہان میں لندن کے اس وکیل کا نام بھی شامل ہے جس نے رانا شمیم کے خفیہ حلفیہ بیان کو رجسٹر کر کے اس کی تصدیق کی تھی۔
دوسری طرف رانا شمیم نے عدالتی حکم کے باوجود اپنے گواہان کے نام جمع نہیں کرائے اور عدالت سے ایک درخواست کے ذریعے گواہان کی فہرست طلب کرنے متعلق اپنے حکم پر نظر ثانی کی استدعا کی ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق جج گلگت بلتستان رانا شمیم کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کر رکھی ہے، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی سینئیر ترین جج پر سیاسی دباؤ قبول کرنے کا اپنے حلف نامے میں دعوی کیا۔
انگریزی روزنامہ دی نیوز میں صحافی انصار عباسی کی خبر میں انکشاف کیا گیا تھا کہ سابق جج گلگت بلتستان نے لندن میں ایک حلفیہ بیان ریکارڈ کروا کر محفوظ کروا دیا ہے جس کے مطابق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان کے اور ان کی مرحوم اہلیہ کے سامنے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک سینئیر جج کو فون پر ھدایات دی تھییں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز کو کسی صورت میں ضمانت پر رہا نہیں ہونا چاہئیے۔
خبر کی اشاعت کے بعد چیف جسٹس اطہر من اللہ نے توہین عدالت کی کاروائی شروع کی اور صحافیوں اور اخباری گروپ کے خلاف یہ کاروائی موخر کرتے ہوئے رانا شمیم پر جنوری ۲۰۲۲ میں فرد جرم بھی عائد کر دی تھی، اس کے تقریباً ۸ ماہ بعد ۵ ستمبر کو عدالت نے رانا شمیم اور استغاثہ کو ۷ ستمبر تک اپنے اپنے گواہان کی فہرست پیش کرنے کا حکم دیا تھا جس پر رانا شمیم کی طرف سے نظر ثانی کی استدعا کی گئی۔

