پاکستان

عالمی برادری مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرے: انتونیو گوتریس

ستمبر 9, 2022

عالمی برادری مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرے: انتونیو گوتریس

متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ سیلابی صورتحال میں پاکستانی حکومت اور عوام سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں، میں نے سیلاب متاثرین کو دیکھا ہے ان کے گھر ،فصلیں سب تباہ ہوگئے ہیں، متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے لیے تمام ادارے ملکر کام کر رہے ہیں،جو قابل تحسین ہے۔

جمعے کو اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے،انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو سے بھی ملاقات کی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے ملاقات میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ جو امداد آئے گی شفاف طریقے سے خرچ ہوگی۔

بعدازاں دونوں کو نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر (این ایف آر سی سی) میں سیلاب اور امدادی سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان وہ ملک ہے جو میرے دل کے بہت قریب ہے ، حکومت ،پاکستانی فوج ،سماجی تنظیمیں سیلاب متاثرین کی مدد کر رہی ہیں، عالمی برادری کو پاکستان کی بحالی اور سرمایہ کاری میں حصہ لینا چاہیے، میں عالمی برادری کو پیغام دے رہا ہوں پاکستان اس وقت مشکل میں ہے آگے بڑھیں اور مدد کریں ، اقوام متحدہ اس مشکل وقت میں پاکستان کی ہر ممکن مدد کرے گی۔

سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پاکستان متاثر ہو رہا ہے ، تاہم اس نے موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات نہیں کیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری ہم سے ہمدردی کرنے کے لیے آئے ہیں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے ان سے جو کچھ ہوگا یہ کریں گے، میں دل کی گہرائیوں سے سیکریٹری جنرل کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہمیں عالمی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے، سیکریٹری جنرل کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں سیلاب متاثرین کی امداد کو پوری شفافیت کے ساتھ ان تک پہنچایا جائے گا۔

بعدازاں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ہمراہ وزارت خارجہ میں پریس کانفرنس میں بلاول بھٹو نے کہا کہ میرے ملک کا ایل تہائی حصہ سیلاب میں ڈوب چکا ہے،ہر سات میں سے ایک شخص متاثر ہے۔لوگوں کو بھوک اور بیماریوں کا بھی سامنا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ وہ سیلاب سے متاثرہ تمام اداروں کو امداد پہنچانے سے قاصر ہیں کیونکہ اس آفت سے کروڑوں افراد متاثر ہوئے۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے