شہباز گل پر مبینہ تشدد،تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت طلب
سپریم کورٹ نے شہباز گل پر مبینہ تشدد کیس میں تفتیشی کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔
جمعے کو سپریم کورٹ میں جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بنچ نے کیس کی سماعت کی.
دوران سماعت شہباز گل کے وکیل سلیمان صفدر نے ٹی وی پر کی گئی گفتگو کا متن پڑھ کر سنایا. وکیل درخواست گزار نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل پر دوران حراست تشدد ہوا،شہباز گل کی گفتگو کے مخصوص حصے کو ایف آئی آر کا حصہ بنایا گیا.
دوران سماعت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے شہباز گل کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بتائیں قانون کیا کہتا ہے. وکیل صفائی نے کہا آپ عرض کر دیں. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کیا میں عرض کروں؟ اپنے الفاظ واپس لیں. شہباز گل کے وکیل نے کہا میں معذرت چاہتا ہوں. جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل صفائی سے ایک مکالمے میں کیا جو ریلیف چاہتے ہیں وہ تو آپ کو مل چکا ہے. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پوچھا کیا زیر حراست تشدد کا معاملہ مجسٹریٹ کے سامنے اٹھایا گیا.
شہباز گل کے وکیل نے جواب دیا ہماری ہر درخواست سے تشدد کا نشانہ بنانے کی شکایت جھلکتی ہے. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ جب شہباز گل پر زیر حراست تشدد ہونے کا میڈیکل کرایا گیا تو متعلقہ فورم پر جائیں. شہباز گل کے وکیل نے دلائل میں کہا پولیس کی حراست میں تشدد کرنے کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ کیا یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے؟
جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ عام آدمی پر تشدد ہوتا ہے تو کیا کسی نے یہ معاملہ اٹھایا،جب آپ پر تشدد ہوا تو اب آپ بات کر رہے ہیں.
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ پولیس کی زیر حراست تشدد کی شکایت مجسٹریٹ کو کی جاتی ہے. وکیل صفائی نے کہا کہ تفتیشی کی جانب سے بتایا گیا جن وجوہات کے سبب ریمانڈ چاہیے وہ عدالت میں نہیں بتا سکتے،میرے موکل سے پستول برآمد کیا گیا. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ اس کیس میں جو ریکوری ہوئی وہ غیر متعلقہ ہے،کیا کی گئی گفتگو پر اب زبان ریکور کرنی ہے.
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کیا تفتیشی ریمانڈ نہیں لے سکتا. عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردی.

