پاکستان

عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم،ہائیکورٹ کا حکم

ستمبر 19, 2022

عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ ختم،ہائیکورٹ کا حکم

اسلام آباد ( ۱۹ ستمبر ۲۰۲۲)
مطیع اللہ جان۔ اسلام آباد

پاکستان کی اسلام آباد ہائیکورٹ نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہُ ختم کرنے کا حکم دیدیا۔

پیر کو دھشت گردی کے مقدمے کی قانونی حیثیت کیخلاف سابق وزیر اعظم عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست کی سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس سمن رفعت پر مشتمل دو رکنی بنچ نے سماعت کی-

سپیشل پبلک پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ رضوان عباسی نے سماعت آغاز میں ہی عدالت کو بتایا کہ استغاثہ اس مقدمے میں دھشت گردی کی دفعات کا دفاع کریگا۔

عمران خان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے لکھے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں انسداد دھشت گردی کے قانون سے متعلق تشریح کی گئی تھی۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے دھشت گردی کی تعریف اور اس قانون کے استعمال سے متعلق طے شدہ معیار سے متعلق تفصیلی بحث کی، خوف اور دھشت کی فضا پھیلنے کے امکان پر نہیں بلکہ حقیقت میں ایسی فضا پیدا ہو جانے پر ہی دھشت گردی کا الزام لگایا جا سکتا ہے، محض صدمے، دھشت اور خوف کی فضا پیدا ہونا بھی کافی نہیں کیونکہ عام شھری لاپرواہی سے بھی خوف کی فضا پیدا کر دیتے ہیں۔ دھمکی دینے کے ساتھ ساتھ دھمکی دینے والے کے اصل مقاصد بھی واضح ہونگے تو دھشت گردی کی دفعات لگ سکیں گی۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ ایک سیاسی ریلی میں غصے میں کہے گئے کچھ الفاظ کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کر دی گئی، “شرم کرو آئی جی اسلام آباد، تم اور تمھارے ڈی آئی جی، تم کو تو ہم نے نہیں چھوڑنا، تمھارے اوپر کیس کرنا ہے اور مجسٹریٹ زیبا چودھری آپ بھی تیار ہو جاؤ آپکے اوپر ایکشن لینگے ، تم سب کو شرم آنی چاہئیے۔”

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا تفتیش کے دوران ہائی کورٹ اس معاملے میں مداخلت کر سکتی ہے؟

ایڈوکیٹ سلمان نے کہا کہ جو بھی اس تقریر سے خوف زدہ ہوا اس کو سامنے آنا چاہئیے تھا۔ یہ عدالتی کاروائی تفتیش میں مداخلت کے مترادف نہیں ہے۔ تقریر میں قانونی کاروائی کرنے کی بات کی گئی تھی نہ کہ کوئی غیر قانونی اقدام اٹھانے کی بات کی گئی، ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی کسی دفعہ کا اطلاق نہیں کیا گیا۔ پہلے تو دھشت گردی کی تعریف سے متعلق ابہام تھا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے دور ہو گیا ہے، اب دھشت گردی کے الزام کیخلاف جب درخواست دائر کر دی گئی تو پھر تعزیرات پاکستان کی دوسری دفعات بھی ایف آئی آر میں ڈال دی گئی۔

پی پی سی کی دفعہ ۱۸۹ زخم پہنچانے کی دھمکی کسی سرکاری ملازم کو دینا جسکی سزا ۲ سے ۱۰ سال کی قید
سیکشن ۵۰۳ کسی کی شہرت یا اسکی جائداد کو نقصان پہنچانے کی دھمکی دینا
سیکشن ۱۸۸ پی پی سی جس میں کار سرکار میں مداخلت کرنا یا اسے ایسا کرتے زخم پہنچانے کی دھمکی لگانا،یہ تمام دفعات بعد میں شامل کی گئیں
،اور کسی کو یہ کہنا کہ میں تمھیں دیکھ لوں گا دھشت گردی کا جرم نہیں بنتا،
بیرسٹر سلمان صفدر نے مزید کہا کہ عمران خان کی تقریر سے کوئی بدامنی پیدا نہیں ہوئی،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دئیے کہ زیادہ سے زیادہ یہ غیر ذمے دارانہ بیان ہو سکتا ہے۔

بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ دھمکی وہ ہوتی ہے جس میں کہا جائے کہ ایسا نہ کیا تو ہم یہ کر دینگے اور عمران خان کی تقریر میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ اس حوالے سے ممتاز قادری کیس سمیت سپریم کورٹ کے دیگر فیصلوں کا بھی حوالہ دیا گیا جن میں دھشت گردی کی واضح تشریح کی گئی تھی جنکے بعد انسداد دھشت گردی کے قوانین کا اب ناجائز استعمال نہیں ہو رہا۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر ایسی کسی تقریر کے نتیجے میں کوئی شخص انتہائی اقدام اٹھا لے تو پھر کیا ہو گا؟ بیرسٹر سلمان صفدر نے کہا کہ اگر ایسا جرم اصل میں ہو جاتا ہے تو پھر دھشت کردی کی دفعات لاگو ہوں گی، ویسے تو وکلا پر بھی دھشت گردی کی دفعات کا اطلاق ہوا تھا، اس بات پر چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بیرسٹر سلمان صفدر کو مزید بات کرنے سے روک دیا۔

سپیشل پبلک پراسیکیوٹر ایڈوکیٹ رضوان عباسی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اشتعال صرف الفاظ کے ذریعے ہی دلایا جاتا ہے جو از خود ہی ایک سنگین جرم ہے، یہ سمجھنا بھی اہم ہے کہ ایسے الفاظ استعمال کرنے والے کی کیا حیثیت ہے، یہ الفاظ استعمال کرنے والا ایک سابق وزیر اعظم جو مستقبل کا بھی وزیر اعظم ہو سکتا ہے، تو پھر یہ انتہائی سنگین اشتعال ہے، ملزم کے حمایتیوں میں پڑھے لکھے اور ان پڑھ لوگوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے، تو ایسے میں یہ کہنا کہ “ہم ایکشن لینگے” اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں، عام آدمی کسی باوردی پولیس والے کے منہ سے نکلے انہیں الفاظ کو انتہائی سنجیدہ لے گا،

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ انسداد دھشت گردی کی شق سات کے اطلاق سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ آگیا ہے، آپ یہ تسلیم کر رہے ہیں کہ صرف الفاظ کے استعمال تک کا معاملہ ہے، ایڈوکیٹ رضوان عباسی نے کہا کہ یہ اشتعال دلانے کا کیس ہے جو دھشت گردی کے قانون میں شامل ہے۔

ایڈوکیٹ رضوان عباسی نے دلائل میں کہا کہ ٹرائل شروع ہونے سے پہلے ہائی کورٹ دھشت گردی کے اس مقدمے پر اپنی رائے نہیں دے سکتی، اس حوالے سے پراسیکیوٹر نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ استغاثہ آج ہی اس مقدمے میں پولیس رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرا رہا ہے اور ملزم کے پاس ٹرائل کورٹ میں بھی ایف آئی آر کے اخراج کی درخواست دائر کرنے کا قانونی راستہ دستیاب ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ تسلیم کر چکا ہے کہ اسکے پاس عمران خان کی تقریر کے علاوہ کوئی ایسا ثبوت نہیں ہے جس سے دھشت گردی کی دفعات کا جواز مل سکتا ہو۔
سابق وزیر اعظم پر آئی جی اور ڈی آئی جی پولیس کو کو ایک جلسے میں مخاطب کر کے دھمکانے کے الزام میں دھشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

.

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے