مریم نواز کی اپیل،نیب ثابت کرے جائیداد نواز شریف نے خریدی،ہائیکورٹ
مطیع اللہ جان۔اسلام آباد
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پانامہ کیسوں میں سزاؤں کیخلاف مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی اپیلوں کی سماعت ۲۹ ستمبر تک ملتوی ہوگئی۔
منگل کو جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیلوں کی سماعت کی، مریم نواز کے وکیل ایڈوکیٹ امجد پرویز کے گذشتہ سماعت پر دلائل مکمل کرنے کے بعد آج نیب کے سپیشل پراسیکیوٹر بیرسٹر عثمان جی راشد نے اپیلوں کی مخالفت میں دلائل کا آغاز کیا۔
مریم نواز اور کیپٹن صفدر کو ۲۰۱۸ میں ایون فیلڈز پراپرٹی ریفرنس میں مرکزی ملزم سابق وزیر اعظم نواز شریف کے آمدن سے زائد اثاثے بنانے میں اعانت کے جرم میں سات سال قید اور تاحیات نااہلی کی سزا سنائی گئی تھی۔
نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو اپنے دفاع کا بھرپور موقعہ دیا گیا بشمول نواز شریف جنہیں گواہان پر جرح کا بھی موقعہ دیا گیا۔
نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے کہا کہ مرکزی ملزم نواز شریف کی اپیلیں خارج کی جا چکی ہیں، ان مقدموں میں تین ملزمان ہیں جن پر ناجائز اثاثے بنانے کا الزام ہے، اور مریم نواز اور کیپٹن صفدر اپنی اپیلوں میں مرکزی ملزم کا دفاع کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ مرکزی ملزم نواز شریف کی اپیلوں کو خارج کیا گیا ہے اور مریم نواز کی اپیلوں کو میرٹ پر سنا جا رہا ہے۔
نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے ان مقدمات کا پس منظر بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مقدمات صحافیوں کے ایک عالمی گروپ کی پانامہ تحقیقات کی بنیاد ہر بنائے گئے۔ میڈیا کی رپورٹوں کے بعد سپریم کورٹ نے اس معاملے پر پہلے جے آئی ٹی بنائی اور پھر یہ معاملہ نیب کے ریفرنس کی صورت میں احتساب عدالت آ گیا۔
نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے کہا یہ تمام ریفرنس سپریم کورٹ کے ججز صاحبان جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن کے آخری فیصلے کی بنیاد ہر بنائے گئے۔
سپریم کورٹ کے پانامہ کیسوں کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی درخواستیں بھی مسترد ہو چکی ہیں۔بہت سی دستاویزات سپریم کورٹ کے فیصلے میں تسلیم شدہ ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں میں حقائق کے متعلق جو بھی رائے دی گئی ہو ماتحت عدالتیں اس کی پابند نہیں۔
نیب کے وکیل نے تمام ملزمان کو جاری کیے گئے فرد جرم پڑھ کر سنائے۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نیب نے اپنے طور پر بھی پانامہ کیسوں کی تحقیقات کی؟
نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے کہا کہ نیب نے بھی اپنی تحقیقات کی اور کال آپ نوٹسز بھیجے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مریم نواز پر جو تحقیقات کو گمراہ کرنے کا الزام ہے تو کیا نیب کے تفتیشی نے بتایا کہ مریم نواز کے کس بیان سے تفتیش کا رخ کیسے غلط ہوا؟
جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ جے آئی ٹی نے جو مریم نواز پر تحقیقات کو غلط سمت لیجانے کا الزام لگایا تو وہ جے آئی ٹی تو سپریم کورٹ کے حکم پر بنائی گئی تھی، کیا نیب کےتفتیشی نے بھی اپنے طور پر اس حوالے سے رائے دی؟
جسٹس عامر فاروق نے کہا ایک جملے میں بتائیں کہ مریم نواز پر الزام کیا ہے؟ نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے کہا کہ مریم نواز نے مرکزی ملزم نواز شریف کے اثاثوں کی ملکیت، اور ان کو چھپانے میں اعانت کی۔اثاثوں کو حاصل کرنے میں مدد کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ مریم پر الزام تو ۲۰۰۶ کی ٹرسٹ ڈیڈ کے بعد لگا، ۱۹۹۶ میں تو انکا کوئی کردار نہیں تھا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یا تو آپ مریم نواز کو شریک ملزم کہیں گے اور اگر نہیں تو پھر ۲۰۰۶ کی ٹرسٹ ڈیڈ پر آ جائیں۔
جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ ۱۹۹۳-۹۶ میں یہ لندن کے فلیٹ کیسے خریدے گئے؟ نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے کہا کہ دو اپارٹمنٹس نیلسن کمپنی کے ہیں اور دو نیسکول کے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب نے یہ بتانا ہے کہ مریم نواز کس تاریخ سے ملزم ٹھہریں؟ نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے کہا کہ ۲۰۰۶ سے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا تو پھر اثاثوں کی خریداری میں مریم نواز کا کوئی بھی کردار نہیں ہے، ہمیں اپنے حقائق پہلے درست کرنے ہونگے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ مریم نواز پر مرکزی ملزم والا الزام تو نہیں ہے ، صرف اعانت کا الزام ہے اور اب سوال یہ ہے کہ مریم نواز کا ۲۰۰۶ سے پہلے کوئی کردار تھا یا نہیں؟ نیب وکیل بیرسٹر عثمان نے کہا کہ مریم نواز پر ۲۰۰۶ سے پہلے جرم کی اعانت کا الزام نہیں ہے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ کیا مریم نواز کی حد تک یہ سوال اہم ہے کہ یہ پراپرٹیز کیسے حاصل کی گئیں؟ اگر نہیں تو پھر ان اثاثوں کے حصول میں مدد اور اعانت کا الزام کیسے برقرار رہ جاتا ہے؟ ایسے میں مریم نواز نے نواز شریف کو کیسے مدد کی، کیا ۱۹۹۳ سے ۱۹۹۶ تک مریم نواز کا کبھی ان جائیدادوں سے تعلق رہا؟
جسٹس عامر فاروق نے پوچھا کہ کیا قتل ثابت ہوئے بغیر قتل میں اعانت کرنے والوں کو سزا ہو سکتی ہے؟جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ آپ اپنے دلائل کا آغاز نواز شریف پر لگے الزام سے کریں گے اور پھر مریم نواز شریف کے کیس کی طرف آئیں گے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم یہاں نواز شریف کا کیس نہیں سن رہے۔ نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے کہا کہ مرکزی ملزم نواز شریف کی اپنی سزاؤں کیخلاف اپیلیں خارج ہو چکی ہیں اس لئے اب مریم نواز کیخلاف فیصلہ دیا جائے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نواز شریف کی اپیل میرٹ پر نہیں تکنیکی بنیاد پر خارج ہوئی ہے۔
بیرسٹر عثمان نے واجد ضیا کا بیان پڑھ کر سنایا جس میں اس نے سپریم کورٹ کی حکم پر جے آئی ٹی کی تشکیل کے بارے میں بتایا اور کہا تھا کہ سپریم کورٹ نے جائیدادوں کے حوالے سے ایک سوالنامہ بھی تیار کر کے جے آئی ٹی کے حوالے کیا تھا۔واجد ضیا کے بیان کے مطابق جے آئی ٹی نے ساٹھ دن میں اپنا کام مکمل کرنا تھا۔جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ملٹری اینٹیلیجنس کے شامل افسران کے نام بھی پڑھے گئے۔ نیب کے وکیل کا نیب کی اپنی تحقیقات کی بجائے سپریم کورٹ کی بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ پر انحصار رہا۔
نیب کے وکیل کی طرف اے جے آئی ٹی رپورٹ پڑھے جانے کے بعد جسٹس عامر فاروق نے پوچھا اس سب کے اندر ایک اہم چیز کا ذکر ہی نہیں، وہ ہے نواز شریف اور مریم نواز شریف کا نام۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اگر ملزم قتل کا اعتراف کر بھی لے تو استغاثہ کا کام ختم نہیں ہو جاتا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے پوچھا کہ کیا نواز شریف نے ان اثاثوں کی ملکیت کو تسلیم کیا ہے؟ بیرسٹر عثمان نے کہا نہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب نے کہاں ثابت کیا کہ یہ فلیٹ نواز شریف کے ہیں، بیرسٹر عثمان نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ان فکیٹس میں رہ رہے ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا پاکستان میں آدھے لوگ دوسروں کے گھروں میں آ رہے ہیں۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب کو ثابت کرنا ہو گا کہ نواز شریف نے یہ فلیٹس خریدے اور یہ اس کا ثبوت ہے، یہ فوجداری ٹرائل ہے جس میں کچھ بنیادی ثبوت نیب کو فراہم کرنا ہو گا؟ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا اگر نواز شریف نے غلط بیانی بھی کی تھی تو آپ نے محض جائداد کو نواز شریف سے کچھ دستاویزات کیساتھ جوڑنا تھا اسکے بعد بھی بارِ ثبوت نواز شریف پر آ جاتا۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ نیب پہلے یہ بتائے کے ۹۳ سے ۹۶ کے بیچ لندن فکیٹس اور نواز شریف کا کیا تعلق تھا؟ نیب پہلے بتائے کہ لندن فلیٹس کی خریداری پر پیسوں کی ادائیگی کس نے کی، آپ کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ پیسوں کی ادائیگی کس نے کی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ نیب وہ دستاویزات دکھا دے جس سے یہ ثابت ہو کہ نواز شریف نے یہ جائداد خریدی اور اسکے بعد ہم دیکھیں گے کہ مریم نواز شریف نے جرم کی اعانت کیسے کی۔
نیب کے وکیل بیرسٹر عثمان نے کہا کہ میں تو یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ مریم نواز کے وکیل غلط ہیں۔
نیب وکیل کے دلائل جاری تھے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت ۲۹ ستمبر تک ملتوی کر دی۔

