عافیہ صدیقی کی واپسی،از سر نو سفارتی کوششیں کی جا سکتی ہیں:دفتر خارجہ
اسلام آباد ہائیکورٹ نے امریکہ میں قید پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی وطن واپسی کی درخواست پر دفتر خارجہ کو ہر دو ہفتے بعد پیش رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔
دفتر خارجہ کے قانونی مشیر اسد برکی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ امریکہ کے قیدیوں کی سزا میں معافی کے آفس میں درخواست دی گئی تھی۔
دفتر خارجہ کے قانونی مشیر نے کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے امریکہ سے از سر نو سفارتی کوششیں کی جا سکتی ہیں ، دفتر خارجہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر اٹھا سکتا ہے ، امریکی اٹارنی جنرل کو ہمارے اٹارنی جنرل بھی خط لکھ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دفتر خارجہ صرف سفارتی محاذ پر کوشش کر سکتا ہے ، قانونی محاذ کو وزارت داخلہ نے دیکھنا ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ہی عافیہ صدیقی کا بچہ امریکیوں سے قید سے وطن واپس لایا گیا تھا۔اب اتحادی جماعتوں کی حکومت ہے اور بلاول بھٹو وزیرخارجہ ہیں،ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ وہ عافیہ صدیقی کی واپسی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

