انتخابات تاخیر پر ازخود نوٹس، لارجر بینچ میں شامل تین ججز کے اہم سوالات
پاکستان کی سپریم کورٹ میں دو صوبوں میں انتخابات میں تاخیر کے ازخود نوٹس کیس میں نو رکنی بینچ میں شامل تین ججز نے اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
جمعرات کو عدالت کے لارجر بینچ کے سرابراہ چیف جسٹس عمر عطا بندیال 40 منٹ کی سماعت کے دوران آدھا گھنٹہ خود ہی بولتے رہے اور اس دوران ازخود نوٹس لینے کا پس منظر بتایا۔
تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے اپنی درخواست کا بتایا جبکہ پی ٹی آئی سے منسلک وکیل شعیب شاہین نے بتایا کہ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار کے صدر ہیں اور انہوں نے بھی درخواست دائر کی ہے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے سوال اٹھایا کہ کیا پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں آئین کے مطابق تحلیل کی گئیں؟
انہوں نے پوچھا کہ عوام نمائندوں کو پانچ سال کے لیے منتخب کرتے ہیں، کیا وزیراعلیٰ اپنی پارٹی یا سربراہ کے کہنے پر اسمبلی تحلیل کر سکتا ہے؟ یہ اختیار سیاسی جماعت کا ہے یا پھر سیاسی جماعت کے سربراہ کا؟
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سوال بھی عدالتی کارروائی کا حصہ بناتے ہیں؟
جسٹس منصور علی شاہ نے سوال اٹھایا کہ کیا وجوہات کے بغیر تحلیل کی گئی اسمبلیاں دوبارہ بحال کی سکتی ہیں، اس سوال کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہم اس سوال کو بھی عدالتی کارروائی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا ہو سکتا ہے عدالت بغیر وجوہات کے تحلیل کی گئی اسمبلیاں بحال کر سکتی ہے؟ اور کیا وزیراعلیٰ سیاسی جماعت کے سربراہ کی ہدایات پر عمل کرنے کا پابند ہے؟
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم جج صاحبان کی طرف سے اٹھائے گئے تمام سوالات کو عدالتی کارروائی کا حصہ بناتے ہیں۔
اس دوران جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ یہ ازخود نوٹس سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کے ایک فیصلے میں تحریری کیے گئے نوٹ پر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ جس بینچ نے نوٹ لکھا اس کے سامنے مقدمہ سروس میٹر یعنی ایک سرکاری ملازمین/ پولیس افسر غلام محمد ڈوگر کی تعیناتی کا تھا۔ ایسے مقدمے میں الیکشن کمیشن کو بلانا اور پھر اس طرح کا نوٹ لکھنا کیا درست ہے؟
جسٹس مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ اس نوٹ میں دونوں معزز ججز (جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی) نے اپنی حتمی رائے دے دی اور اب وہ اس بینچ کا بھی حصہ ہیں۔
چیف جسٹس نے سماعت کے اختتام پر حکمنامے لکھواتے ہوئے کہا کہ جسٹس مندوخیل نے ازخود نوٹس لینے پر تحفظات کا اظہار کیا تاہم اصل معاملہ یعنی صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن میں تاخیر اپنی جگہ ہے۔

