پاکستان

سیاست دان آئین کے لیے آپس میں بیٹھ کر بات کریں: چیف جسٹس

اپریل 27, 2023

سیاست دان آئین کے لیے آپس میں بیٹھ کر بات کریں: چیف جسٹس

ملک میں انتخابات کرانے کے مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سیاست دان آئین کے لیے آپس میں بیٹھ کر بات کریں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پورے ملک میں ایک ہی دن الیکشن کروانے پر اگر اتفاق رائے ہوتا ہے تو یہی بہتر ہوگا۔

جمعرات کو کیس کی سماعت مکمل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نہ کوئی ہدایت جای کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی ٹائم لائن جاری کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سماعت کا تحریری فیصلہ جاری کریں گے۔
قبل ازیں مقمے کی سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل منصور عثمان نے عدالت کو گزشتہ سماعت کے بعد سیاسی مذاکرات شروع کرنے کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ 19 اپریل کو حکومت اور اپوزیشن میں پہلا رابطہ ہوا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 19 اپریل کو حکومت اوڑ اپوزیشن میں پہلا رابطہ ہوا،
26 اپریل کو ملاقات پر اتفاق ہوا تھا۔

اٹارنی جنرل کے مطابق 25 اپریل کو ایاز صادق اور خواجہ سعد رفیق کی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی، اسد قیصر نے بتایا کہ وہ مذاکرات کے لیے با اختیار نہیں۔ گزشتہ روز حکومتی اتحاد کی ملاقاتیں ہوئیں، دو جماعتوں کو مذاکرات پر تحفظات تھے لیکن راستہ نکالا گیا۔

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ چیئرمین سینیٹ نے ایوان بالا میں حکومت اور اپوزیشن کو خطوط لکھے ہیں، چیئرمین سینیٹ نے حکومت اور اپوزیشن سے چار چار نام مانگے ہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ اسد قیصر کے بعد کیا کوشش کی گئی کہ کون مذاکرات کے لیے کون با اختیار ہے؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ منگل کو میڈیا سے معلوم ہوا کہ شاہ محمود قریشی مذاکرات کے لیے با اختیار ہیں۔

چیف جسٹس چیئرمین سینیٹ نے کس حیثیت سے رابطہ کیا؟

اٹارنی جنرل نے بتایا کہ سینیٹ وفاقی کی علامت ہے اس لیے چیئرمین سینیٹ کو کہا گیا۔

پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق نائیک نے بتایا کہ چیرمین سینٹ کا کردار صرف سہولت فراہم کرنا ہے۔ مذاکرات سیاسی جماعتوں کی کمیٹیوں نے ہی کرنے ہیں۔ سیاسی ایشو ہے اس لیے سیاسی قائدین کو ہی مسلۂ حل کرنے دیا جائے۔ سیاست کا مستقبل سیاستدانوں کو ہی طے کرنے دیا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے اس موقع پر کہا کہ حکومت کے اصرار پر عدالت نے سیاسی اتفاق رائے کے لیے موقع دیا تھا۔ تمام جماعتوں کی سیاسی قیادت عدالت میں پیش ہوئی تھی۔ پی ڈی ایم میں آج بھی مزاکرات پر اتفاق رائے نہیں ہے۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق عدالتی حکم کو پی ٹی آئی نے سنجیدگی سے لیا۔ سپریم کورٹ کو 14 مئی کا فیصلہ حتمی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ عدالت نے قومی مفاد میں سیاسی جماعتوں کو موقع فراہم کیا، تحریک انصاف کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا گیا، پی ٹی آئی نے مجھے، فواد چوہدری اور علی ظفر کو مذاکرات کیلئے نامزد کیا تھا۔

شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ اسد قیصر نے حکومت کو مجھ سے رابطہ کرنے کا کہا، آج تک مجھ سے کسی نے رابطہ نہیں کیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ نے گزشتہ روز فون پر کہا وزیراعظم کے اصرار پر رابطہ کر رہا ہوں، چیئرمین سینیٹ سے کہا کہ سپریم کورٹ میں جو تجاویز دی تھیں وہ کہاں ہیں، سینٹ کمیٹی صرف تاخیری حربہ ہے۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر رولز کی خلاف ورزی کی گئی، دھرنے کے دوران کہا تھا پارلیمان میرا سیاسی کعبہ ہے، زیر سماعت معاملے کو پارلیمان میں زیر بحث نہیں لایا جا سکتا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمان میں دھمکی آمیز لہجے اور زبان سن کر شرمندگی ہوئی، پارلیمان میں کہا گیا کہ توہین پارلیمنٹ ہوئی ہے۔ حکومت سنجیدہ ہے تو ابھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ٹی آئی بات چیت کے لیے سنجیدہ ہے، ہم آج ہی بیٹھنے کو تیار ہے۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق حکومت نے آئین اور عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کا فیصلہ کر رکھا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ یہ سیاسی باتیں ہیں، ہم کیس کے بارے میں بات کر رہے ہیں۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ سنجیدگی کے ساتھ رابطہ نہیں کیا گیا؟

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ آئین اور پارلیمنٹ کو کون نیچا دکھا رہا ہے، اس پر نہیں جانا چاہتا، شاہ محمود قریشی نے جو تقریر کی ایسے اتفاق رائے نہیں ہوسکتا۔

فاروق ایچ نائیک کے مطابق یہ چیئرمین سینیٹ کو نام دیں کل ہی بیٹھنے کو تیار ہیں۔ یہ صبر آزما کام ہے۔ مولانا فضل الرحمان کو سینیٹ نے مذاکرات پر آمادہ کیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مذاکرات کے معاملے میں صبر اور تحمل سے کام لینا ہوگا،

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کا کوئی حکم یا ہدایت نہیں صرف تجویز ہے۔ قومی مفاد اور آئین کے تحفظ کے لیے اتفاق نہ ہوا تو جیسا ہے ویسے ہی چلے گا۔

تحریک انصاف کے وکیل علی ظفر نے کہا کل ماحول سازگار ہو گا تو مذاکرات ممکن ہوں گے، مذاکرات کے لیے وقت مقرر کرنا لازمی ہے۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں تاخیر سے مقصد سے فوت ہو جائے گا۔

فاروق ایچ نائیک نے اس پر کہا کہ بیٹھیں گے تو بات ہو گی، گلے شکوے ہوں گے، حل بھی نکلے گا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ 1977 میں سیاسی حالات اتنے کشیدہ نہیں تھے جتنے آج ہیں۔ اس وقت بھی حل مذاکرات سے ہی نکلنا تھا۔

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے