عمران خان کی گرفتاری کا مقدمہ، سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟
سپریم کورٹ نے ساڑھے چار بجے تک عمران خان کو ہر صورت سپریم کورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے.
پاکستان کی سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی گرفتاری کو قانونی قرار دینے کے فیصلے پر اپیل کی سماعت کے دوران وکلا کی ٹیم نے دلائل دیے۔
بینچ میں شامل ججز نے کیا کہا یہاں پڑھیے۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نیب اس قسم کی حرکتیں پہلے بھی کر چکا ہے، اس قسم کی کاروائیاں ختم ہونی چاہئیں۔ جو ماحول پیدا کیا گیا وہ افسوس ناک ہے، یہ عدالتوں کے احترام کا طریقہ کار نہیں۔
چیف جسٹس کے مطابق لوگ عدالتوں میں انصاف کے لیے آتے ہیں۔ اگر لوگوں کا عدالتوں پر اعتماد ختم ہو گیا تو کیا ہوگا؟
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ سیکرٹری داخلہ کو بھی گرفتاری کے وارنٹ کا علم نہیں تھا، رول آف لاء پر عملدرآمد ختم ہونے کے باعث ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں، اگر عمران خان گھر سے یا عدالت کے باہر سے گرفتار ہوتے تو کیس کی پیروی نہ کرتے۔
وکیل کے مطابق عمران خان عدالت کے احاطہ سے گرفتار ہونا افسوس ناک ہے، عمران خان نیب کے متعلقہ تمام کیسز کا جواب دے رہے تھے، نیب کے تمام ملنے والے نوٹسز کا جواب دیا، ہمیں صرف ایک نوٹس موصول ہوا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم یہاں کیس کے میرٹ ڈسکس نہیں کر رہے، اصل معاملہ کورٹ کی توہین کا ہے،
ہمارے لئے اس وقت وارنٹ آف ارسٹ سوال ہی نہیں، وارنٹ کی تعمیل کیسے ہوئی یہ سب سے اہم ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہر کوئی رول آف لاء کی بات کر رہا ہے، کوئی اس پر عمل نہیں کر رہا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ دوسرا قانون کی پاسداری کرے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ہر کسی کو عدالت کے اندر تحفظ ملنا چاہیے، ہم عدالت کی توقیر کو بحال کریں گے، میانوالی کی ڈسٹرکٹ کوٹ ہر حملہ کیا گیا جو بدقسمتی ہے۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت پر حملے پر اج میرا دل دکھا ہے، ایسے کیسے ہورہا ہے اور کوئی نہیں روک رہا؟
عمران خان کے وکیل نے کہا کہ انکوائری کو بغیر نوٹس دیے انویسٹی گیشن میں بدل دیا گیا، ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے سامنے یہی کہتے رہے کہ ہماری انصاف تک رسائی کو محروم کیا گیا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ کیا احاطہ عدالت سے گرفتاری سے قبل تفتیشی افسر نے اجازت لی؟ وارنٹ کی تعمیل کس نے کی؟
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزارت داخلہ کو تعمیل کے لیے خط لکھا تھا،
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کہ رہے ہیں کہ وارنٹ کی تعمیل تفتیشی افسر یا نیب نے نہیں کی؟ نیب آرڈیننس کے مطابق وارنٹ کی تعمیل کون کروائے گا؟ نیب خود بھی وارنٹ کی تعمیل کر سکتا تھا؟
جسٹس اطہر نے پوچھا کہ آپ نے کسی اور کو کہا کہ وارنٹ کی تعمیل احاطہ عدالت کے اندر سے کریں؟ جب چئیر مین نیب نے وارنٹ گرفتاری جاری کیا تو کیا آپ نے گھر پر گرفتاری کی کوشش کی؟
چیف جسٹس نے پوچھا کیا آپ جان بوجھ کر کورٹ روم کے اندر سے گرفتار کرنا چاہتے تھے؟ یکم مئی سے 8 مئی تک آپ نے نوٹس پر تعمیل کرانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟
اطہر من اللہ نے پوچھا کہ ملزم لاہور کا رہائیشی ہے آپ نے صوبائی حکومت کی بجائے وفاقی حکومت کو کیوں لکھا؟ معاملے کو پیچیدہ مت بنائیں
عمران خان کے وکیل کے مطابق انکوائری مکمل ہونے کے بعد رپورٹ ملزم کو دینا لازمی ہے.
جسٹس محمد علی مظہرنے پوچھا کہ کیا عمران خان شامل تفتیش ہوئے تھے.
وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ عمران خان نے نوٹس کا جواب نیب کو ارسال کیا تھا، نیب کو وارنٹ غیرقانونی تھا.
جسٹس اطہر کے مطابق نیب وارنٹ کا نہیں، تعمیل کروانے کا طریقہ اصل ایشو ہے،
جسٹس مظہر نے کہا کہ نیب وارنٹ تو عمران خان نے چیلنج ہی نہیں کئے، عمران خان نیب میں شامل تفیش کیوں نہیں ہوئے؟
نوٹس کا جواب دیا گیا تھا، وکیل عمران خان
کیا نیب نوٹس میں ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا کہا گیا تھا، جسٹس اطہر
قانون پر عمل کی بات نیب کرتا ہے، خود نہیں کرتا، نیب کی خواہش ہے کہ دوسرے قانون پر عمل کرے،
جسٹس محمد علی مظہرنے کہا کہ واضح ہے کہ عمران خان نے نیب نوٹس پر عمل نہیں کیا تھا، نیب نوٹس کا مطلب ہوتا ہے کہ بندہ ملزم تصور ہوگا، کئی لوگ نیب نوٹس پر بھی ضمانت کروالیتے ہیں.
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ مارچ کے نوٹس کا جواب مئی میں دیا گیا، کیا عمران خان نے قانون نہیں توڑا تھا.
وکیل کے مطابق عمران خان کو صرف ایک ہی نوٹس موصول ہوا تھا.
قبل ازیں سپریم کورٹ نے عمران خان کی گرفتاری کو قانونی قرار دینے کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل فوری سماعت کے لیے مقرر کی.
جمعرات کو دن دو بجے چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےسماعت کا آغاز کیا.
بینچ میں جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس اطہر من اللہ بھی شامل ہیں.
پی ٹی آئی نےاسلام آباد ہائیکورٹ کے عمران خان کی گرفتاری کودرست قرارکے خلاف اپیل دائر کی تھی.
درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ کافیصلہ کالعدم قراردینے کی استدعا کی گئی .
درخواست گزار کے مطا بق ہائی کورٹ کا حکم آرٹیکل 10 اے کے خلاف ہے، اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ تضادات سے بھرپورہے.
درخواست کے مطابق سیکرٹری داخلہ اورآئی جی اسلام آباد کوتوہین عدالت کے نوٹس بھی جاری کیے گئے، اسلام آباد ہائیکورٹ غیرقانونی حراست سے نکالنے میں ناکام رہی.
درخواست کے مطابق چیئرمین نیب کے جاری کردہ وارنٹ غیر قانونی ہیں، عدالتی حدود سےگرفتاری کے خلاف سپریم کورٹ کے کئی فیصلے موجود ہیں.

