پاکستان

سٹیٹ بینک کی نئی پالیسی، پاکستانی اوپن مارکیٹ میں ڈالر ریکارڈسستا

جون 1, 2023

سٹیٹ بینک کی نئی پالیسی، پاکستانی اوپن مارکیٹ میں ڈالر ریکارڈسستا

پاکستان کی اوپن مارکیٹ میں ڈالر کے نرخ میں بڑی کمی دیکھی گئی ہے اور یہ یکدم 25روپے کم ہو کر 290روپے تک آ گیا ہے۔

کاروباری ہفتے کے چوتھے روز جمعرات کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 25روپے کمی ہوئی۔

معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ انٹر بینک مارکیٹ اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر کا گیپ کم کیا جائے جس کے بعد سٹیٹ بینک نے احکامات جاری کیے ہیں کہ کریڈٹ کارڈ کی ادائیگی کے لیے انٹر بینک مارکیٹ سے ڈالر خریدے جائیں۔

اس حکم نامےکے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت کم ہو رہی ہے۔

فاریکس ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل ظفر پراچہ نے کہا ہے کہ ’اس میں مزید کمی ہو گی اور ایک دو روز مین یہ تقریبا 20 روپے کم ہو کر انٹر بینک ریٹ جو کہ 285 روپے تک ہے کے قریب آ جائے گا۔‘

ظفر پراچہ کے مطابق ’ڈالر کے نرخوں میں یہ بڑی کمی سٹیٹ بینک کی طرف سے گذشتہ روز جاری کیے گیے ایک سرکولر کے بعد آئی ہے جس میں یہ ہدایات جاری کی گئی تھیں کہ بینکس بیرون ملک کریڈٹ کارڈز کی رقوم کی ادائیگی کے لیے ڈالرز اوپن مارکیٹ کے بجائے بینکس سے انٹر بنک ریٹ پر خریدیں۔‘

ظفر پراچہ کا کہنا تھا کہ ’یہ تجویز فاریکس ایکسچینج ایسوسی ایشن کی طرف سے دی گئی تھی جس پر عملدرآمد کے بعد ڈالر کی اوپن مارکیٹ میں قیمت کم ہوئی ہے۔‘

ظفر پراچہ نے بتایا کہ اس کا فوری طور پر انٹر بینک ریٹ پر اثر نہیں پڑے گا، تاہم روپے کی قدر مستحکم ہونے کے ساتھ اگر دیگر معاشی عوامل بھی مثبت ہو جائیں تو مستقبل میں یہ نرخ کم ہونے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومت کو ڈالر ریٹ میں کمی کے لیے ڈالرز کے گرے مارکیٹ میں جانے سے روکنے، سمگلنگ کے خلاف اقدامات اور دیگر پالیسیز بہتر بنانے کے لیے جلد کام کرنا چاہیے۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے