تین ججوں پر حکومتی اعتراض کی درخواست،دلائل کے بعد فیصلہ محفوظ
سپریم کورٹ نے آڈیو لیکس کمیشن کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ پر وفاقی حکومت کے اعتراض کی سماعت مکمل کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کمیشن کی تشکیل کا نوٹیفکیشن معطل ہے اور اس حوالے سے عدالتی حکم برقرار ہے۔
منگل کو چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں لارجر بینچ نے سماعت کا آغاز کیا تو وکیل ریاض حنیف راہی نے بتایا کہ اُن کی درخواست پر رجسٹرار آفس نے اعتراض لگایا ہے۔
چیف جسٹس نے وکیل سے کہا کہ وہ اپنی درخواست پر اعتراض دور کریں۔ ’آپ کس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی چاہتے ہیں۔ جج کو توہین عدالت کی درخواست میں فریق نہیں بنایا جا سکتا۔‘
وفاقی حکومت کی جانب سے دائر متفرق درخواست میں بینچ کی تشکیل پر اعتراض کیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل عثمان منصور نے گزشتہ سماعت کا حکم نامہ پڑھ کر سنایا تو چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ ’آپ کس پوائنٹ پر بات کرنا چاہیں گے؟ آپ ایک چیز نظرانداز کر رہے ہیں، اور وہ یہ ہے کہ چیف جسٹس ایک آئنی عہدہ ہے، مفروضے کی بنیاد پر چیف جسٹس کا چارج کوئی اور نہیں استعمال کر سکتا۔ اس کیس میں چیف جسٹس دستیاب تھے جنہیں کمیشن کے قیام پر آگاہ نہیں کیا گیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ ’چیف جسٹس کے علم میں نہیں تھا اور کمیشن بنا دیا گیا، ان نکات پر آپ دلائل دیں۔ آپ عدالتی فیصلوں کے حوالے پڑھنے سے پہلے قانون کو سمجھیں۔‘
اٹارنی جنرل نے کہا کہ وہ پہلے بنچ کی تشکیل پر دلائل دیں گے جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ ’کیا آپ اس پوائنٹ پر جا رہے ہیں کہ ہم میں سے تین ججز متنازع ہیں؟‘
چیف جسٹس نے کہا کہ ’اگر اس پر جاتے ہیں تو آپ کو بتانا ہوگا کہ آپ نے کس بنیاد پر فرض کر لیا کہ ہم میں سے تین کا کنفلکٹ ہے۔ میں چاہوں گا آپ دوسروں سے زیادہ اہم ایشو پر فوکس کریں، دوسرا اور اہم ایشو عدلیہ کی آزادی کا ہے۔‘
اٹارنی جنرل نے آڈیو لیکس کمیشن کے ٹی او آرز پڑھ کر سنائے اور کہا کہ لیک آڈیوز میں ایک چیف جسٹس کی ساس سے متعلق ہے۔
جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ کیا آپ کا اس وقت کیس یہ ہے کہ آڈیوز بادی النظر میں درست ہیں؟
اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ وفاقی حکومت نے اس معاملے پر ابھی صرف کمیشن بنایا ہے، حقائق جاننے کے لیے ہی تو کمیشن بنایا گیا ہے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا وفاق کو علم نہیں کہ آڈیوز مصدقہ ہیں یا نہیں؟ سینیئر کابینہ ممبر نے تو اس پر پریس کانفرنس بھی کر دی۔ کیا یہ درست نہیں کہ وزیر داخلہ ان آڈیوز پر پریس کانفرنس کر چکے۔

