ڈسکہ سے لاہور جانے والی خاتون کا گاڑی میں مبینہ ریپ، مقدمہ درج
پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کے تھانہ صدر ڈسکہ میں درج کیے ایک مقدمے کے مطابق لاہور کی ایک رہائشی خاتون کا مبینہ طور پر لفٹ دینے والے افسر نے ریپ کیا ہے۔
بدھ کی رات درج کیے گئے مقدمے کے مطابق لاہور کے علاقے اچھرہ کی رہائشی مسماۃ ن نے بتایا کہ وہ 13 جون کو ضروری کام کے سلسلے میں ڈسکہ آئی تھیں اور گزشتہ رات لاہور واپس جانے کے لیے روانہ ہوئیں۔
متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ راستے میں ایک شخص جس نے بعد ازاں اپنا نام محمد عمران بتایا اُن کو کار میں لفٹ دینے کی پیشکش کی تاکہ وہ اڈے تک پہنچ سکیں۔
خاتون کے مطابق لفٹ دینے والے شخص نے خود کو افسر ظاہر کیا اور دھیدووالی کے قریب پہنچنے پر اُن سے گاڑی میں چھیڑ چھاڑ کی۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ خاتون سے ریپ کی کوشش کے دوران انہوں نے شور مچایا تو گاڑی سے اُتار دیا گیا۔
خاتون نے پولیس کو بتایا کہ کار سوار بعد ازاں فرار ہو گیا۔

پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 376 اور 511 کے تحت مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کی ہے۔

