’کراچی کو استنبول بنانے کا خواب بکھر گیا‘، مرتضیٰ وہاب میئر منتخب
صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار میئر بننے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان کا شکست ہو گئی ہے۔
جمعرات کو کراچی آرٹس کونسل میں میئر کے انتخاب کے لیے اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار مرتضیٰ وہاب نے 173 ووٹ حاصل کیے جبکہ نعیم الرحمان 160 ارکان کی حمایت حاصل کر سکے۔
سوشل میڈیا پر جماعت اسلامی کے حامی پیپلز پارٹی پر الیکشن میں دھاندلی اور غیرجمہوری ہتھکنڈے استعمال کرنے کے الزامات عائد کر رہے ہیں جبکہ بائیں بازو کے ترقی پسند حلقے جماعت کے حامیوں پر طنز کرتے ہوئے پھبتیاں کَس رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیدوار کی شکست پر طنز کرنے والے ترکی کے ساحل پر مختصر لباس میں جمع افراد کی تصویر شیئر کر کے لکھتے ہیں کہ کراچی کو استنبول بنانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق رائے شماری میں پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار نے 173 ووٹ حاصل کیے جبکہ جماعت اسلامی کے امیدوار حافظ نعیم الرحمن کو 160 ووٹ ملے اور 32 بلدیاتی نمائندے میئر کے انتخاب کے عمل میں شریک نہیں ہوئے۔ اس طرح مرتضیٰ وہاب 13 ووٹوں کی برتری سے میئر کراچی منتخب ہوئے۔
1979 سے اب تک ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں پہلی بار پیپلز پارٹی کراچی میں اپنا میئر لانے میں کامیاب ہوئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سندھ کی حکمراں جماعت کراچی میں اپنا میئر لانے میں تو کامیاب ہو گئی ہے لیکن شہر کے بے پناہ مسائل کو حل کرنا نومنتخب میئر کے لیے آسان نہیں ہو گا۔

