پاکستان

عروج دیکھ لیا، اقتدار سے نکالنے میں جنرل باجوہ ملوث: عمران خان

جون 21, 2023

عروج دیکھ لیا، اقتدار سے نکالنے میں جنرل باجوہ ملوث: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ انھوں اپنے دورِ حکومت میں ایران کا دورہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی درخواست پر کیا تھا تاکہ سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

اٹلانٹک کونسل کو دیے گئے انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ اُن کے دور حکومت میں سعودی عرب اور چین کے ساتھ تعلقات اچھے رہے اور ’میں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ایما پر ایران کا دورہ کیا تھا۔ یاد کریں اس وقت ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی تھی اور مجھے سعودی شہزادے نے ایران کا دورہ کرنے کا کہا تھا۔ وہ دونوں ممالک میں تلخی کو کم کرنا چاہتے تھے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرے دور حکومت کے مقابلے میں پاکستان آج تنہائی کا شکار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ چین اور سعودی عرب سے تعلقات کی خرابی کی باتیں بہت مضحکہ خیز ہیں، یہ سب قیاس آرائیاں ہیں اور کوئی انھیں پھیلاتا رہا ہے۔ اور اگر ایسا ہوتا تو کیا وزرائے خارجہ کے کانفرنس میں چینی وزیر خارجہ آتے۔

اپنے دورِ حکومت کے دوران امریکہ، چین اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کے سوال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو میرا روس کا دورہ پسند نہیں آیا تھا اگرچہ یہ میرے سروسز چیف کی مشاورت سے کیا گیا تھا کیونکہ وہ ان سے عسکری اسلحہ خریدنا چاہتے تھے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت گرانے سے متعلق سائفر بھیجے جانے کا الزام امریکہ مخالفت میں نہیں تھا بلکہ میں نے حقائق بیان کیے تھے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی سفیر اور پاکستان کے سفیر کی امریکہ میں ہوئی ایک سرکاری ملاقات میں کہا گیا کہ ’اگر عمران خان کو تحریک عدم اعتماد سے ہٹایا نہیں جاتا تو اس کے نتائج ہوں گے‘ اور اس پر میں نے کابینہ اور قومی سلامتی کمیٹی میں معاملہ اٹھایا اور دونوں اجلاسوں کے بعد امریکہ سے ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کرنے پر سخت مذمت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد جمع کروائی گئی اور دنوں میں میری حکومت ختم کر دی گئی۔

عمران خان نے کہا کہ ’بعد میں جب چیزیں واضح ہوئی تو پتا چلا کہ اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ حسین حقانی کے ذریعے یہ کمپین کر رہے تھے کہ میں امریکہ مخالف ہوں۔‘

انھوں نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’میرا اپنا آرمی چیف اس سب میں ملوث تھا۔‘

حکومت میں دوبارہ آنے کے لیے امریکی حمایت اور امریکہ کی جانب سے عمران خان کو ایک عام شہری قرار دینے کے سوال کے جواب میں چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ ’مجھے پاکستان میں حکومت میں آنے کے لیے کسی کی حمایت کی ضرورت نہیں۔ میں نے عروج دیکھ لیا ہے۔ مجھے اس ملک کے عوام سے سب سے زیادہ عزت اور پیار ملا۔ اس وقت تمام جماعتیں اور اسٹیبلشمنٹ مجھے ہٹانے کے درپے ہیں۔‘

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے